وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی درمیانی مدت کی قرض حکمتِ عملی کا مقصد عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بڑھانا، قرضوں کی میعاد میں توسیع اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم کرنا ہے۔
’پاکستان رواں مالی سال عالمی منڈیوں سے قرض لینے میں جلد بازی نہیں کرے گا، جبکہ حکومت آئندہ 2 سے 3 سال میں بعض مختصر مدت کے بیرونی قرضوں کو طویل میعاد کے قرضوں میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: معیشت مستحکم ہے، کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، وزیر خزانہ
بلومبرگ ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے 4 سال کے وقفے کے بعد عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق تقریباً 3 ہفتے قبل جاری کیے گئے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے لیے مقررہ حجم سے دوگنا طلب موصول ہوئی، جس میں ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ پاکستان نے رواں سال اپریل میں 75 کروڑ ڈالر کے بانڈز بھی نجی طور پر جاری کیے تھے۔
If you want to understand the government’s approach to managing the economic impact of the multiple crises facing the region and the world, watch this @business interview with Finance Minister Aurangzeb. pic.twitter.com/tjcWcR3Bau
— Mosharraf Zaidi 🇵🇰 (@mosharrafzaidi) October 12, 2026
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان اب تک 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کر چکا ہے اور ایک ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت مزید بانڈز جاری کیے جائیں گے۔
حکومت نے اسلامی سکوک اور پہلی مرتبہ روپے میں مالیت جبکہ ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز کے اجرا کے لیے بھی مینڈیٹس دے دیے ہیں، پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈز کی ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں 3 مرتبہ بہتری آئی ہے اور ملک اب بی کیٹیگری میں ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کی عالمی اکاؤنٹنگ معیارات سے استثنیٰ کی درخواست مسترد
’موجودہ پیش رفت برقرار رہی تو اگلے مالی سال کے آغاز تک بی پلس ریٹنگ حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ طویل مدتی ہدف ڈبل بی کیٹیگری میں داخل ہونا ہے۔‘
وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر چند ہفتے قبل 21.4 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچے، جو تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر قرضوں کے بجائے مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری کے ذریعے ہوا، جبکہ توقع ہے کہ پاکستانی روپیہ مستحکم رہے گا۔
مزید پڑھیں: اقتصادی سروے: مالی سال 2026 میں پاکستان کا بیرونی قرض 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی اور رواں مالی سال اس کے 4 فیصد سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
’پہلی سہ ماہی میں ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کیے گئے، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب دوہرے ہندسے میں داخل ہو چکا ہے۔‘
امریکا کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیرف مذاکرات اور تجارتی فریم ورک کے علاوہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور کان کنی میں سرمایہ کاری کے فروغ پر بات چیت جاری ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں غربت بڑھ گئی، تعلیمی اخراجات تاریخ کی کم ترین سطح پر، اقتصادی سروے
’ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ سے ممکنہ تعاون پر بھی تبادلۂ خیال ہو رہا ہے، تاہم تاحال کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔‘
مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے لیے خام تیل اور گیس کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات موجود ہیں، جبکہ نومبر کے لیے خام تیل اور ایل این جی کی خریداری کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔













