سینیئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں نافذ ہونے والی ہنگامی حالت اور گورنر راج کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو دبانا یا سیاسی انتقام لینا نہیں بلکہ اس کا واحد مقصد دہشتگردوں کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانا ہے جو کہ ایک بڑا قومی مقصد ہے اور اس میں سب کو ساتھ دینا چاہیے۔ اگر یہ قدم واقعی دہشتگردوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہے تو ہم اس جنگ میں پوری طرح ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے تحت کیا گیا، محسن نقوی
انہوں نے کہا کہ اگست 1947 میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی 22 اگست کو صوبہ سرحد کے گورنر کے ذریعے ڈاکٹر خان صاحب (خان عبدالجبار خان) کی حکومت کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کیا تھا اگر وہ فیصلہ درست تھا تو 11 اکتوبر 2026 کو کیا گیا یہ فیصلہ بھی ویسا ہی ہے۔
حامد میر نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے دور میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا دونوں جگہ امن و امان کی خرابی اور دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج لگایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنہ 1994 میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی صوفی محمد کی تحریک اور مالاکنڈ کے خراب حالات کی وجہ سے صابر شاہ کی حکومت کو ہٹا کر میجر جنرل (ریٹائرڈ) خورشید خان کو گورنر مقرر کیا تھا لہٰذا آئین کے اندر اس اقدام کی پوری گنجائش موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا تعلق پیپلز پارٹی اور ترجمان ثمر بلور کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے ان دونوں جماعتوں نے صوبے سے دہشتگردی ختم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہیرو کہلائیں گے۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے تک ایمرجنسی برقرار رہے گی، طلال چوہدری
حامد میر نے کہا کہ اللہ کرے یہ اقدام کامیاب ہو، ملک میں قومی یکجہتی قائم ہو اور خیبر پختونخوا میں لگنے والا یہ گورنر راج ہمیشہ کے لیے دہشتگردی کو جڑ سے ختم کر دے۔














