چاول کی بھوسی سے بنے ماحول دوست گھر، کیا یہ لکڑی و کنکریٹ کی جگہ لے لیں گے؟

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چاول کی فصل سے حاصل ہونے والی بھوسی کو عموماً زرعی فضلہ سمجھ کر جلا دیا جاتا ہے یا اسے ٹھکانے لگانا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اب اسی بھوسی سے ایسے تعمیراتی سامان تیار کیے جارہے ہیں جو لکڑی کا متبادل بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر زندگی کا اسکاٹ لینڈ سے کیا واسطہ؟ ناسا نے اہل زمین کو حیران کردیا

یہ مواد نمی، سڑن اور آگ کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اسے استعمال کرنے سے زرعی فضلے کو کارآمد بنانے اور ماحول پر اس کے منفی اثرات کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

امریکا میں چاول کی بھوسی سے تیار کردہ تختوں اور پینلز کو گھروں کی تعمیر اور تزئین و آرائش میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ان سے برآمدے، کھیل کے میدانوں کا سامان اور دیگر تعمیراتی مصنوعات بھی تیار کی جارہی ہیں۔

اس کی ایک مثال امریکی ریاست یوٹاہ کے شہر پارک سٹی میں واقع ایک لگژری رہائشی منصوبہ ہے جہاں سنہ 2023 میں تعمیراتی ماہر ڈیوڈ فائن کو عمارتوں کی تزئین و آرائش کا کام سونپا گیا۔ علاقے میں سردیوں کے دوران کئی ماہ تک برف پڑتی رہتی ہے جس سے عمارتوں میں نمی اور سڑن کے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔ گرمیوں میں جنگلاتی آگ کا بڑھتا ہوا خطرہ بھی تعمیراتی مواد کے انتخاب کو مشکل بنا رہا تھا۔

عمارتوں کے مالکان ایسی چیز چاہتے تھے جو لکڑی جیسی خوب صورت دکھائی دے، نمی برداشت کرسکے اور آگ سے تحفظ کے اعتبار سے روایتی لکڑی سے بہتر ہو۔ ایلومینیم جیسے مواد آگ کے خلاف مزاحمت تو فراہم کرسکتے تھے، لیکن ان کی ظاہری شکل لکڑی جیسی قدرتی نہیں تھی جبکہ دیودار کی لکڑی خوب صورت ہونے کے باوجود آگ کے خلاف کم مزاحمت رکھتی تھی۔

بالآخر چاول کی بھوسی سے تیار کردہ پینلز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈیوڈ فائن کے مطابق یہ مواد ان کی تمام بنیادی ضروریات پر پورا اترا۔

دنیا میں سالانہ 15 کروڑ ٹن چاول کی بھوسی پیدا ہوتی ہے

چاول کی فصل پر موجود بھوسی دانوں کو نمی، کیڑوں اور دیگر بیرونی اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ تاہم فصل کی کٹائی کے بعد یہی بھوسی ایک ایسا زرعی فضلہ بن جاتی ہے جسے ٹھکانے لگانا آسان نہیں۔

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 15 کروڑ ٹن چاول کی بھوسی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا بڑا حصہ کھیتوں یا سڑکوں کے کنارے جلا دیا جاتا ہے جس سے فضائی آلودگی اور انسانی صحت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

امریکا میں ہر سال تقریباً 90 لاکھ ٹن چاول پیدا ہوتا ہے۔ وہاں چاول کی بھوسی کو بعض اوقات توانائی پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس عمل کے بعد بچنے والی راکھ کے مؤثر استعمال کا مسئلہ برقرار رہتا ہے۔

اب اس فضلے کو تعمیراتی صنعت میں استعمال کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں جس سے ایک طرف فضلے کو کارآمد بنایا جاسکتا ہے اور دوسری طرف تعمیرات کے لیے متبادل مواد فراہم کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: سال 1952 کے ’اڑن طشتری‘ واقعے کی نئی فائلیں منظرعام پر، 70 سال پرانا معمہ پھر زیر بحث

کرسٹوفر گیمونڈ کو چاول کی بھوسی کے ممکنہ استعمال میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب انہیں معلوم ہوا کہ بعض امریکی چاول پیدا کرنے والے اداروں کا فضلہ زمین میں گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے میتھین گیس خارج ہوسکتی ہے۔ میتھین ایک طاقت ور گرین ہاؤس گیس ہے جو موسمیاتی تبدیلی میں کردار ادا کرتی ہے۔

گیمونڈ نے انجینیئرنگ کی تعلیم کے دوران یہ خیال پیش کیا کہ چاول کی بھوسی کی قدرتی خصوصیات کو تعمیراتی صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

وہ اب امریکی کمپنی ’ماڈرن مل‘ کے سربراہ ہیں جو چاول کی بھوسی سے تعمیراتی مصنوعات بڑے پیمانے پر تیار کرنے والی امریکا کی پہلی کمپنی قرار دی جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق سنہ 2018 میں قیام کے بعد سے وہ 90 لاکھ کلوگرام سے زیادہ چاول کی بھوسی کو لینڈفل میں جانے سے روک چکی ہے۔ پارک سٹی کے رہائشی منصوبے میں استعمال ہونے والے پینلز بھی اسی کمپنی نے فراہم کیے تھے۔

جرمنی کی ’ریسٹا‘ اور اٹلی کی ڈیزائن کمپنی ’رائس ہاؤس‘ سمیت دیگر ادارے بھی چاول کی بھوسی سے مختلف تعمیراتی مصنوعات تیار کررہے ہیں جن میں فرش بنانے کا سامان اور رنگ بھی شامل ہیں۔

چاول کی بھوسی میں ایسی کیا خاصیت ہے؟

چاول کی بھوسی میں سلیکا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو اسے نمی اور سڑن کے خلاف مزاحمت فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ قدرتی طور پر اس کا بنیادی کام چاول کے دانوں کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے اور یہی خصوصیات اسے تعمیراتی مواد کے طور پر مفید بناتی ہیں۔

ڈیوڈ فائن کے مطابق چاول کی بھوسی سے تیار کردہ بعض مصنوعات آگ کے خلاف بھی خاصی مزاحمت رکھتی ہیں۔ ماڈرن مل کی مصنوعات میں شامل پینلز کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے جنگلاتی علاقوں اور آبادیوں کے سنگم پر واقع مقامات کے لیے مقررہ آگ سے متعلق حفاظتی معیار کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: 134 سال بعد بھی معمہ: کیا لیزی بورڈن نے اپنے والدین کو قتل کیا تھا؟ نیٹ فلکس بھی سرگرم

روایتی طور پر لکڑی کو ماحول دوست تعمیراتی مواد سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ نسبتاً کم کاربن اخراج کے ساتھ دستیاب ہوسکتی ہے۔ تاہم لکڑی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ، پرانے جنگلات کی کٹائی اور ان جنگلات میں محفوظ کاربن کے ضیاع جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔

اس کے مقابلے میں چاول کی بھوسی پہلے ہی زرعی پیداوار کا ایک ضمنی حصہ ہے اس لیے اسے کارآمد بنانا فضلے میں کمی کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔ بانس بھی کئی ممالک میں کنکریٹ اور مہنگی، آہستہ بڑھنے والی سخت لکڑی کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہا ہے، لیکن چاول کی بھوسی کی وسیع دستیابی اور کم قیمت اسے ایک منفرد امکان بناتی ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ چاول، گندم اور مکئی جیسی فصلوں کے ریشے دار باقیات کو جلانے کے بجائے عمارتوں میں استعمال کیا جائے تو ان میں موجود کاربن طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے اور یوں عمارتیں کاربن کو ذخیرہ کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔

تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس میں پائیدار تعمیراتی مواد کی ماہر اور سول و ماحولیاتی انجینیئرنگ کی پروفیسر سبی ملر کے مطابق کسی تعمیراتی مواد کے حقیقی ماحولیاتی فوائد جانچنے کے لیے اس کی تیاری سے لے کر استعمال اور تلفی تک تمام مراحل کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔

حرارت اور آواز روکنے میں بھی مددگار

تحقیقات کے مطابق چاول کی بھوسی سے تیار کردہ پینلز حرارت اور آواز کو قابو میں رکھنے کے معاملے میں روایتی تعمیراتی مواد جیسی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

اٹلی میں رائس ہاؤس نے ’کاسا ایل ایچ‘ نامی ایک منصوبے میں چاول سے تیار کردہ مواد استعمال کیا۔ اس عمارت میں جنوب کی جانب بڑی کھڑکیاں اور کھلا باورچی خانہ ہے جہاں قدرتی روشنی اور ہوا تو آتی ہے، لیکن موسم کے لحاظ سے گرمی اور آواز کی گونج بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

رائس ہاؤس سے وابستہ ویلنٹینا ساویولی کے مطابق عمارت میں حرارتی موصلیت اور آواز کے بہتر انتظام کے لیے اضافی مواد کی ضرورت تھی۔ چاول کی بھوسی سے تیار کردہ مواد اپنی دستیابی اور حجم کے باعث اس مقصد کے لیے موزوں انتخاب ثابت ہوا۔

تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ اٹلی میں تعمیراتی ٹھیکیدار اب بھی غیر روایتی مواد استعمال کرنے کے معاملے میں محتاط رویہ رکھتے ہیں۔ امریکا میں بھی اس طرح کے مواد کو عام کرنے میں لاگت اور دیگر رکاوٹیں موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق انجینئرز اور تعمیراتی ماہرین کو کسی نئے مواد کے استعمال میں ناکامی کے ممکنہ نتائج کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے، کیونکہ عمارت میں خرابی کی صورت میں ان کی پیشہ ورانہ ساکھ اور لائسنس متاثر ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے چاول کی بھوسی سے تیار کردہ ایسے پینلز کو اپنانا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے جو عمارت کا وزن اٹھانے والے بنیادی ڈھانچے کا حصہ نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس ستونوں یا شہتیروں میں کسی نئے مواد کا استعمال زیادہ سخت جانچ اور حفاظتی تقاضوں کا متقاضی ہوتا ہے۔

کیا چاول کی بھوسی کنکریٹ کا متبادل بھی بن سکتی ہے؟

تعمیراتی صنعت میں چاول کی بھوسی کا استعمال صرف دیواروں کے پینلز تک محدود نہیں۔ محققین اس سے حاصل ہونے والی راکھ کو سیمنٹ کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات بھی جانچ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ہزاروں سال پہلے انسان آئرلینڈ کیسے پہنچے؟ قدیم غاروں کی دریافت نے نیا راز کھول دیا

سیمنٹ عالمی کاربن اخراج کا تقریباً 8 فیصد پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اگر چاول کی بھوسی کی راکھ کو سیمنٹ کے آمیزے میں شامل کیا جائے یا بعض تعمیراتی طریقوں میں اس کی جگہ استعمال کیا جائے تو سیمنٹ کی ضرورت کم ہوسکتی ہے، جس سے کاربن اخراج اور تعمیراتی لاگت میں کمی کا امکان ہے۔

اس راکھ کو مٹی کے بلاکس میں بطور بائنڈر، یعنی مختلف اجزا کو آپس میں جوڑنے والے مادے کے طور پر استعمال کرنے پر بھی تحقیق ہورہی ہے۔

سال 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں چاول کی بھوسی کی راکھ، لکڑی کی راکھ اور چاول کے بھوسے کو ملا کر کم لاگت والا ایسا تعمیراتی مواد تیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی جو مجموعی طور پر کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور سیمنٹ کی ضرورت ختم کرسکے۔

اگر ان طریقوں کو مؤثر اور محفوظ ثابت کردیا گیا تو ان سے بالخصوص ان ترقی پذیر خطوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جہاں چاول کی بھوسی بڑی مقدار میں جلائی جاتی ہے اور کروڑوں افراد مناسب رہائش سے محروم ہیں۔

رہائش کے شعبے میں کام کرنے والے غیر منافع بخش ادارے ’بلڈ چینج‘ سے وابستہ اریانا کرامالس کے مطابق افریقہ میں نئی تعمیرات کے لیے کنکریٹ کا استعمال عام ہے، لیکن بعض جگہوں پر تعمیراتی معیار ناقص ہونے کے باعث یہ طریقہ بیک وقت مہنگا اور غیر مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق چاول کی بھوسی جیسے نئے مواد کو متعارف کراتے وقت 3 چیزوں میں توازن ضروری ہے: قیمت مناسب ہو، اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکے اور مقامی آبادی کی ضروریات و حالات کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نئی تعمیراتی تکنیکوں کی آزمائش کے لیے سب سے زیادہ کمزور اور محروم آبادیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

امریکا میں استعمال بڑھ رہا ہے

ماہرین کے مطابق چاول کی بھوسی سے تیار کردہ مواد کے طویل مدتی امکانات ان خطوں میں زیادہ ہوسکتے ہیں جہاں چاول کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔ تاہم امریکا میں اس کا استعمال پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔

پارک سٹی میں رہائشی منصوبہ مکمل کرنے کے بعد ڈیوڈ فائن پانچ مزید منصوبوں میں چاول کی بھوسی کے پینلز استعمال کرچکے ہیں، جبکہ کئی دوسرے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔

فائن کے مطابق ان پینلز کی تنصیب پر دیودار کی لکڑی کے مقابلے میں کچھ زیادہ لاگت آتی ہے لیکن نمی، دھوپ اور آگ کے خلاف مزاحمت کے باعث طویل مدت میں ان کی دیکھ بھال کے اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ جیسے جیسے زیادہ تعمیراتی ماہرین اس مواد کو استعمال کرنے کا طریقہ سیکھیں گے اس کی لاگت میں کمی آئے گی اور مستقبل میں یہ دیودار کی لکڑی کے مقابلے میں زیادہ سستا بھی ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟

فائن کے مطابق وہ ہمیشہ ایسا تعمیراتی مواد تلاش کرتے ہیں جو طویل عرصے تک قائم رہے حتیٰ کہ ممکن ہو تو ان کی اپنی زندگی سے بھی زیادہ عرصے تک۔ ان کے خیال میں چاول کی بھوسی سے تیار کردہ مصنوعات اس مقصد کے لیے ایک امید افزا انتخاب ثابت ہوسکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خون کے چند قطروں سے بیماریوں کی تشخیص کا دعویٰ، ارب پتی سے سزا یافتہ جعلساز تک الزبتھ ہومز کا حیران کن سفر

پاکستان کی بڑی عالمی کامیابی، 74 سال بعد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بورڈ آف گورنرز کی صدارت مل گئی

ڈونلڈ ٹرمپ کا خلائی مخلوق اور پراسرار اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے کا وعدہ

کینیڈا کا ایکسپریس انٹری نظام تبدیل کرنے کا اعلان، زیادہ تنخواہ والی ملازمتوں پر اضافی پوائنٹس ملیں گے

وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کا امتحان میں فیل ہونے کا اعتراف

ویڈیو

دیر کالونی اسکول سانحہ: 7 روز میں انکوائری رپورٹ طلب، این او سی اور نقشے کی منظوری دینے والوں کا تعین ہوگا، عامر عبداللہ

ہمارے پھول جیسے بچے شہید ہوئے، مائیں ماننے کو بھی تیار نہیں ـ پشاور اسکول سانحے پر ہر آنکھ اشکبار

پھولوں کے شہر میں پھولوں کے جنازے، کے پی ایمرجنسی میں توسیع، بڑا فیصلہ

کالم / تجزیہ

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں

ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کیا کرے؟