خونریز قتل، مشکوک شواہد اور عدالت سے بری ہونے والی ایک خاتون جس کے بارے میں آج تک یہ سوال موجود ہے کہ اصل قاتل کون تھا؟
یہ بھی پڑھیں: گرومنگ گینگز تحقیقات: جب لڑکیاں غائب ہو رہی تھیں تو سوال کیوں نہیں اٹھائے گئے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی تاریخ کے سب سے پراسرار اور مشہور قتل کے مقدمات میں سے ایک کو 134 برس گزر چکے ہیں لیکن اس کا معمہ آج بھی حل نہیں ہوسکا۔
اگست 1892 کی ایک گرم صبح میساچوسٹس کے شہر فال ریور میں اینڈریو بورڈن اور ان کی اہلیہ ایبی بورڈن کو گھر میں قتل کردیا گیا۔
ان کی 32 سالہ بیٹی لیزی بورڈن پر اپنے والد اور سوتیلی ماں کے قتل کا الزام عائد ہوا لیکن جون 1893 میں مقدمے کے بعد وہ بری ہوگئیں۔
قتل کا ہتھیار کبھی نہیں ملا، شواہد زیادہ تر قرائن پر مبنی تھے اور کوئی دوسرا شخص بھی ان قتلوں کے الزام میں کبھی عدالت کے سامنے نہیں لایا گیا۔
یوں یہ مقدمہ امریکی تاریخ کے ان پراسرار جرائم میں شامل ہوگیا جن کا جواب شاید ہمیشہ کے لیے ایک معمہ ہی رہے گا۔
یہی پراسراریت گزشتہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے کے دوران ناول نگاروں، ڈراما نویسوں، شاعروں، فلم سازوں، حتیٰ کہ موسیقاروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہے۔
اب نیٹ فلکس کی مشہور جرائم پر مبنی ڈراما سیریز مونسٹر کے چوتھے سیزن میں بھی لیزی بورڈن کی کہانی کو موضوع بنایا گیا ہے۔
قتل کی وہ صبح کیا ہوا تھا؟
لیزی بورڈن کے والد اینڈریو بورڈن ایک دولت مند لیکن انتہائی کفایت شعار شخص سمجھے جاتے تھے۔
ان کی دوسری اہلیہ ایبی بورڈن 64 برس کی تھیں اور وہ لیزی اور اس کی بڑی بہن ایما کی سوتیلی ماں تھیں۔
قتل کے وقت ایما گھر پر موجود نہیں تھیں جبکہ خاندان کے ایک مہمان بھی گھر سے باہر جاچکے تھے۔ گھر میں اس وقت لیزی، ایبی اور خاندان کی آئرش ملازمہ برجٹ سلیوان موجود تھیں۔
ایبی بورڈن کو گھر کے اوپر والے حصے میں قتل کیا گیا۔
مزید پڑھیے: شبیر احمد کی برطانیہ سے ملک بدری کا معاملہ، پاکستان نے قانونی مؤقف واضح کر دیا
ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت بعد اینڈریو بورڈن اپنے معمول کے کاموں سے واپس گھر پہنچے۔ انہیں گھر کے بیٹھک والے کمرے کے صوفے پر مردہ پایا گیا۔
پولیس کے مطابق ان پر کلہاڑی نما چھوٹے ہتھیار سے متعدد وار کیے گئے تھے۔
قتل کی سنگینی کے باوجود پولیس نے ابتدا میں لیزی کو قاتل نہیں سمجھا۔ بظاہر وہ ایک نرم مزاج خاتون تھیں اور فال ریور کے سینٹرل کانگریگیشنل چرچ میں تدریس سے وابستہ تھیں۔
لیکن تفتیش کے دوران ان کا بیان بار بار تبدیل ہوتا رہا۔
خاص طور پر قتل کی صبح ان کی نقل و حرکت کے بارے میں ان کے مختلف بیانات نے پولیس کے شکوک بڑھا دیے۔
گھر کے اندر کشیدگی بھی موجود تھی
لیزی اور ان کی بہن ایما نے گھر میں کسی شدید اختلاف کی تردید کی، لیکن دوستوں اور پڑوسیوں کو معلوم تھا کہ خاندان کے اندر تناؤ موجود تھا۔
اینڈریو بورڈن دولت مند ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں پر گھر کے اخراجات میں انتہائی کفایت کرنے پر زور دیتے تھے۔ وہ اپنی بیٹیوں کو شہر کے نسبتاً خستہ حال علاقے میں رہنے پر مجبور کرتے تھے جبکہ اپنی دوسری اہلیہ کے خاندان کو مالی مدد بھی دیتے تھے۔
مزید پڑھیں: بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے پاکستانی یا کوئی اور؟ برطانوی پولیس نے ایلون مسک کو آئینہ دکھا دیا
یہی خاندانی کشیدگی بعد میں لیزی کے خلاف قائم کیے جانے والے مقدمے کا ایک اہم پس منظر بن گئی۔
زہر خریدنے کی کوشش نے شک مزید بڑھا دیا
قتل سے ایک روز قبل لیزی پر ایک اور مشکوک الزام سامنے آیا۔
مقامی دوا فروش نے پولیس کو بتایا کہ لیزی نے زہریلا کیمیکل پروشینک ایسڈ خریدنے کی کوشش کی تھی۔
اس اطلاع کے بعد ایک جج نے لیزی کی گرفتاری کا حکم دے دیا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
پھر دسمبر میں ایک دوست نے گرینڈ جیوری کے سامنے گواہی دی کہ لیزی نے قتل کے چند روز بعد ایک لباس جلایا تھا جس کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ ان کا اپنا لباس تھا۔
اس کے بعد لیزی پر باضابطہ طور پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے اور اگلے سال جون میں مقدمہ شروع کرنے کی تاریخ مقرر کردی گئی۔
عدالت میں لیزی کا انداز بھی بحث کا موضوع بنا
فال ریور سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان جوزف کونفورٹی نے اپنی کتاب لیزی بورڈن آن ٹرائل: مرڈر، ایتنی سٹی اینڈ جینڈر میں لکھا ہے کہ لیزی نے اپنے والد کی دولت سے اس دور کے معروف وکیلوں میں سے ایک کو اپنی صفائی کے لیے مقرر کیا۔
اس زمانے میں صرف مردوں کو جیوری کا حصہ بننے کی اجازت تھی چنانچہ مقدمے کی جیوری بھی تمام مردوں پر مشتمل تھی۔
کونفورٹی کے مطابق دفاعی وکلا نے لیزی کو عدالت میں ایک بے ضرر اور بے سہارا نوجوان خاتون کے طور پر پیش کیا۔
انہیں سیاہ لباس پہننے کا مشورہ دیا گیا۔ وہ عدالت میں جسم سے چست لباس، لمبے ملبوسات اور ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ اور پنکھا لیے نظر آئیں۔
دفاع کی حکمت عملی واضح تھی۔ جیوری کو یہ باور کرایا جائے کہ لیزی ایسی شخصیت نہیں رکھتیں کہ اپنے والد اور سوتیلی ماں کا اس قدر سفاکانہ قتل کرسکیں۔
لیزی بری کیسے ہوگئیں؟
مقدمے کے دوران قتل کا ہتھیار برآمد نہیں کیا جاسکا۔
اس کے علاوہ زہر خریدنے کی کوشش سے متعلق اہم گواہی بھی عدالت میں قابل قبول قرار نہیں دی گئی۔
چنانچہ استغاثہ کا مقدمہ زیادہ تر قرائنی شواہد پر منحصر رہ گیا۔
دفاع نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ لیزی کے پاس نہ تو ایسے قتل کے لیے مطلوبہ جسمانی طاقت تھی اور نہ ہی وہ اخلاقی طور پر ایسی سفاکی کا ارتکاب کرسکتی تھیں۔
جیوری نے مختصر غور و خوض کے بعد لیزی بورڈن کو دونوں قتلوں سے بری کردیا۔
لیکن عدالت سے بری ہونے کے باوجود لیزی کی زندگی کبھی معمول پر نہ آسکی۔
یہ بھی پڑھیے: ’پراسرار تنظیم‘ فری میسنری: برطانوی پولیس اپنی پالیسی پر ڈٹ گئی، آخر معاملہ کیا ہے؟
ان کے آبائی شہر میں بہت سے لوگ انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے اور وہ اپنی باقی زندگی اس قتل کے سائے میں گزارتی رہیں۔
سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو کبھی ان قتلوں کے الزام میں گرفتار یا مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
134 سال بعد بھی لوگ لیزی کو کیوں یاد رکھتے ہیں؟
اس مقدمے کی پراسراریت نے اسے صرف ایک پرانا قتل کیس نہیں رہنے دیا بلکہ امریکی ثقافت کا حصہ بنادیا۔
اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ امریکی اسکول کے بچے بھی لیزی بورڈن کے نام سے جڑی ایک مشہور نظم پڑھتے رہے، جس میں الزام لگایا جاتا ہے کہ لیزی نے کلہاڑی سے پہلے اپنی ماں اور پھر اپنے والد کو قتل کیا۔
تاہم یہ نظم کئی اعتبار سے درست نہیں۔
قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار دراصل ایک چھوٹی کلہاڑی نما کلہاڑی تھا جسے ایک ہاتھ سے استعمال کیا جاسکتا تھا، جبکہ نظم میں واروں کی تعداد بھی بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی ہے۔
اس کے باوجود نظم میں بیان کیا گیا بنیادی سلسلہ یعنی پہلے ایبی اور پھر اینڈریو بورڈن کا قتل تاریخی واقعات سے مطابقت رکھتا ہے۔
لیزی بورڈن کی کہانی لکھنے والوں کو کیوں متوجہ کرتی ہے؟
لیزی بورڈن کے مقدمے پر کتاب لکھنے والی مصنفہ کارا رابرٹسن کے مطابق اس کہانی کی سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ لیزی بری ہوگئیں اور اس کے بعد معاملہ کھلا رہ گیا۔
ان کے مطابق یہ کیس جاسوسی کہانی کے تقریباً تمام عناصر رکھتا ہے۔ مشتبہ افراد کی تعداد محدود ہے، قتل کے وقت اور لوگوں کی موجودگی اہم ہے، ہر شخص کے بیان اور عذر کا جائزہ لینا پڑتا ہے اور اگر لیزی کو قاتل تصور کیا جائے تو معاملہ محض قتل کا نہیں بلکہ گہری نفسیاتی کشمکش کا بن جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: ایک سال میں 20 ملین بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، یونیسیف کی ہوشربا رپورٹ جاری
اسی وجہ سے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران متعدد ناولوں، افسانوں اور ڈراموں میں لیزی اور ان کے گرد موجود کرداروں کو نئے انداز میں پیش کیا گیا۔
سنہ 1982 میں مصنفہ اینجلا کارٹر نے اپنے افسانے دی فال ریور ایکس مرڈرز میں قتل سے پہلے کے چند گھنٹوں کو نئے انداز میں تخلیق کیا۔
اس کہانی میں قتل کے لمحے کو براہ راست دکھانے کے بجائے ماحول اور کرداروں کی ذہنی کیفیت پر توجہ دی گئی۔
فلموں میں لیزی کی مختلف شکلیں
گزشتہ نصف صدی کے دوران لیزی بورڈن کے قتل کے مقدمے پر کئی نمایاں فلمیں اور ٹی وی ڈرامے بنائے جاچکے ہیں۔
سنہ 1975 میں اے بی سی نے دی لیجنڈ آف لیزی بورڈن کے نام سے ٹی وی فلم پیش کی جس میں اداکارہ الزبتھ مونٹگمری نے لیزی کا کردار ادا کیا۔
اس کردار پر انہیں ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔
اس فلم میں لیزی کو ایک سرد مزاج اور پراسرار خاتون کے طور پر دکھایا گیا جو اپنے جذبات ظاہر نہیں کرتی اور قتل کے اعتراف کا کوئی اشارہ نہیں دیتی۔
سنہ 2014 کی ٹی وی فلم لیزی بورڈن ٹوک این ایکس میں کرسٹینا ریکی نے لیزی کا کردار ادا کیا۔
اس ورژن میں لیزی کو ایک زیادہ سازشی اور خطرناک شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگلے برس اسی کہانی پر آٹھ اقساط پر مشتمل ڈراما سیریز بھی بنائی گئی۔
سال 2018 کی فلم لیزی میں اداکارہ کلویی سیوگنی نے مرکزی کردار ادا کیا۔
اس فلم میں کہانی کو خواتین پر سماجی دباؤ اور مردانہ بالادستی کے تناظر میں پیش کیا گیا۔ اس میں لیزی اور گھر کی ملازمہ برجٹ سلیوان کے درمیان ایک قریبی تعلق بھی دکھایا گیا۔
مزید پڑھیں: 3 بچوں کے قتل کا مقدمہ، امریکی خاتون لنڈسے کلینسی کا ٹرائل بے نتیجہ ختم
فلم میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ لیزی کو گھریلو حالات، والد کے مبینہ رویے اور سلیوان کے ساتھ تعلق نے قتل کی طرف دھکیلا۔
کیا لیزی اور ملازمہ کے درمیان محبت تھی؟
لیزی کی کہانی پر بننے والی حالیہ تخلیقات میں ایک دلچسپ پہلو لیزی اور خاندان کی ملازمہ برجٹ سلیوان کے درمیان مبینہ رومانوی تعلق ہے۔
نئی نیٹ فلکس سیریز میں بھی اس تعلق کا اشارہ ملتا ہے۔
لیکن اس کیس پر 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تحقیق کرنے والی کارا رابرٹسن کے مطابق اس تعلق کے تاریخی شواہد انتہائی کمزور ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی مصنفین اور فلم سازوں نے اس لیے یہ تعلق تخلیق کیا کیونکہ انہیں اصل کہانی میں رومانوی پہلو کی کمی محسوس ہوتی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لیزی کے سلیوان کے ساتھ رویے سے متعلق کچھ معلوم حقائق بھی اس تصور کو کمزور کرتے ہیں۔
رابرٹسن کے مطابق لیزی نے مبینہ طور پر سلیوان کو اس کے اصل نام سے بھی نہیں پکارا بلکہ اسے ’میگی‘ کہتی تھیں جو اس سے پہلے کام کرنے والی ایک ملازمہ کا نام تھا۔
اس لیے دونوں کے درمیان رومانوی تعلق کو تاریخی حقیقت کے بجائے تخلیقی قیاس ہی سمجھا جاتا ہے۔
نیٹ فلکس کی نئی کہانی کیا بتائے گی؟
اب رائن مرفی اور ایان برینن کی نیٹ فلکس سیریز مونسٹر: دی لیزی بورڈن اسٹوری ایک بار پھر اس پرانے معمہ کو نئی نسل کے سامنے لارہی ہے۔
اس میں لیزی کا کردار ایلا بیٹی نے ادا کیا ہے جو اداکار وارن بیٹی اور اداکارہ اینیٹ بیننگ کی بیٹی ہیں۔
بیٹی کے مطابق ڈراما خواتین کے غصے اور ان حالات کے خلاف ردعمل کو تلاش کرتا ہے جن میں انہیں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
رائن مرفی نے بھی کہا ہے کہ بورڈن کیس میں خواتین اور معاشرے کے تعلق سے متعلق ایسے پہلو موجود ہیں جو آج کے دور سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
سیریز کے اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لیزی اور برجٹ سلیوان کے درمیان قریبی تعلق کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
ایک اور قاتل کو کہانی میں کیوں شامل کیا گیا؟
نئی سیریز میں ایک غیر معمولی موڑ بھی ہے۔
لیزی بورڈن کی سنہ 1892 کی کہانی کے ساتھ ایک زیادہ جدید دور کی قاتلہ ایلین وورنوس کی کہانی بھی شامل کی گئی ہے جس کا کردار سارہ پالسن ادا کررہی ہیں۔
وورنوس فلوریڈا میں جنسی خدمات فراہم کرتی تھیں اور سنہ 1992 میں 7 مردوں کو قتل کرنے کے جرم میں سزا یافتہ قرار دی گئی تھیں۔
دونوں کہانیوں کو ایک ساتھ پیش کرنے سے سیریز کے تخلیق کار شاید ایک بڑا سوال اٹھانا چاہتے ہیں کہ اگرچہ خواتین کے مقابلے میں مردوں کے قتل کرنے کا امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے لیکن کیا بعض مخصوص حالات میں خواتین کا غصہ بھی انتہائی تشدد کی شکل اختیار کرسکتا ہے؟
لیکن لیزی نے ایسا کیوں کیا ہوتا؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب شاید کبھی نہیں مل سکے گا۔
لیزی بورڈن کے بارے میں ایسا کوئی معلوم ریکارڈ موجود نہیں کہ انہوں نے قتل سے پہلے یا اس کے بعد کسی اور موقع پر پرتشدد رویہ اختیار کیا ہو۔
پھر اگر وہ واقعی قاتل تھیں تو آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک بظاہر خاموش اور غیر پرتشدد خاتون نے اپنے والد اور سوتیلی ماں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا؟
اور اگر لیزی قاتل نہیں تھیں تو پھر اصل قاتل کون تھا؟
قتل کا ہتھیار کبھی نہیں ملا، کسی دوسرے ملزم پر مقدمہ نہیں چلا اور لیزی کو عدالت نے بری کردیا۔
اسی لیے 134 برس بعد بھی لیزی بورڈن کا نام امریکی جرائم کی تاریخ کے ایک ایسے معمہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس کا حتمی جواب شاید کبھی سامنے نہ آئے۔
یہ بھی پڑھیے: دہائیوں تک معمہ رہنے والا ریپ اور قتل کا مقدمہ 58 سال بعد کیسے حل ہوا؟
ممکن ہے آنے والے برسوں میں مزید ناول، فلمیں اور ڈرامے اس واقعے کو اپنے اپنے انداز میں بیان کریں، لیکن اگست 1892 کی اس خونیں صبح کا سب سے بڑا سوال بدستور وہی رہے گا کہ کیا لیزی بورڈن واقعی قاتل تھیں یا تاریخ نے ایک بے گناہ خاتون کو ہمیشہ کے لیے ایک خوفناک قتل کے ساتھ جوڑ دیا؟













