بھارتی دارالحکومت میں ہفتے کے روز چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے شدید احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اس دوران ہزاروں سیکیورٹی اہلکار گشت کرتے رہے جبکہ سفری سہولیات اور ٹیلی کام مواصلاتی رابطے معطل رکھے گئے۔
بھارتی نوجوانوں کی ’کاکروچ‘ تحریک کے تحت ہونے والے اس احتجاج کا مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہزاروں مظاہرین کو متحرک کرنا تھا، جن پر ناقدین کا الزام ہے کہ وہ ووٹر فہرستوں میں ایسی ترمیم کر رہے ہیں جس سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچے گا۔
ٹیلی ویژن کے مناظر میں دیکھا گیا کہ نئی دہلی کے مرکزی کاروباری علاقے میں پولیس نے بیگ اٹھائے ہوئے درجنوں نوجوان مظاہرین کا تعاقب کیا، جس کے بعد انہیں گاڑیوں میں ڈال کر لے جایا گیا۔
پولیس نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ دیتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور سابقہ مظاہروں کے دوران ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا۔

ذرائع کے مطابق تقریباً 500 افراد کو جو مختلف گروہوں کی شکل میں آئے تھے، حراست میں لیا گیا جبکہ تقریباً 50 ایسے افراد کو بھی احتیاطی تدبیر کے طور پر حراست میں لیا گیا جن کا مجرمانہ پس منظر تھا۔ پولیس کے ایک اور بیان کے مطابق کنالٹ پلیس سے مزید 200 کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے بانی ابھجیت دیپکے، دیگر رہنما اور معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی بھی شامل ہیں۔
اس آپریشن کے دوران بیریکیڈز، گاڑیوں کی تلاشی، ڈرون کے ذریعے نگرانی اور عارضی قید خانوں کا استعمال کیا گیا تاکہ مظاہرین کو احتجاج کے مقام تک پہنچنے سے روکا جا سکے اس شدید تناؤ کے نتیجے میں اسٹیڈیمز کو عارضی ہولڈنگ سینٹرز میں بدل دیا گیا۔
بھارت نے 3 دہائیوں بعد دہلی کا تاریخی احتجاجی مرکز بند کر دیا
3 دہائیوں سے زائد عرصے تک نئی دہلی کے مرکز میں واقع ایک سڑک بھارتی شہریوں کے لیے اپنے مطالبات پیش کرنے اور حکمرانوں کو جوابدہ بنانے کی سب سے بڑی آواز بنی رہی۔ تجارتی یونینز، ریٹائرڈ فوجی، بدعنوان مخالف مہم جو، خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اور طالب علم رہنما شہر کے تجارتی مرکز اور سیاسی اقتدار کے ایوانوں کے قریب واقع 18ویں صدی کی تاریخی ’جنتر منتر‘ آبزرویٹری کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کرتے تھے۔
تاہم، اس ہفتے عوامی احتجاج کے اس سب سے معروف پلیٹ فارم کو سرکاری طور پر احتجاجی مقام کے درجے سے محروم کر دیا گیا ہے، جس پر فعال کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جمہوریت کی سکڑتی ہوئی جگہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دہلی پولیس نے پیر کے روز جاری ایک حکم نامے میں کہا ’جنتر منتر کی بطور مظاہرہ گاہ حیثیت منسوخ کر دی گئی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے ’کاکروچ‘ تحریک کے پرچم تلے پوری نوجوان نسل سڑکوں پر نکل آئی، مودی سرکار بیک فٹ پر، عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ
یہ اقدام حکام اور کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں آن لائن شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم کے چند دنوں بعد سامنے آیا ہے۔
نوجوانوں پر مشتمل اس گروپ نے ووٹر فہرستوں میں اس ترمیم کے خلاف ہزاروں افراد کو سڑکوں پر نکالا ہے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اہل ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے کچھ ماہ قبل امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف ہونے والے الگ احتجاجی مظاہروں کے بعد تعلیم کے وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
اگرچہ حکام نے دہلی میں مظاہروں کے لیے 3 متبادل مقامات کا تعین کیا ہے، تاہم مہم جوؤں کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں احتجاج کے حق کے لیے عوامی نظروں کے سامنے ہونا اور قانون سازوں کے قریب ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انسانی حقوق کی معروف اور فعال کارکن شبنم ہاشمی نے اے ایف پی کو بتایا ’جنتر منتر شہر کے مرکز میں ہے، یہ ہر طرف سے جڑا ہوا ہے اور پارلیمنٹ کے بالکل قریب ہے… یہ تمام تر احتجاجی تحریکوں کے لیے ایک انتہائی اہم جگہ تھی۔ یہ فیصلہ ناپسندیدہ آوازوں اور اختلافِ رائے کو دبانے کی ایک واضح کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘
’مزاحمت کا جذبہ‘
سنسکرت زبان میں ’جنتر منتر‘ کا مطلب فلکیاتی حساب کتاب کا آلہ ہے جو ننگی آنکھ سے اجرامِ فلکی کا مشاہدہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ جنتر منتر کے ساتھ واقع تقریباً 1.6 کلومیٹر (ایک میل) لمبی سڑک 1993 میں احتجاجی مقام کا درجہ ملنے کے بعد سے ‘احتجاج’ کا مرکز بن گئی تھی۔
رواں برس جولائی میں ’کاکروچ‘ تحریک کی قیادت میں ہزاروں طلباء مقابلہ جاتی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف یہاں جمع ہوئے تھے اور انہوں نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تقریباً ایک ماہ تک جنتر منتر نوجوان نسل کے احتجاج کا ایک متحرک مرکز بنا رہا، جہاں کی دیواروں پر غصے سے بھرپور نعرے، باغیانہ پیغامات اور حکومت کو چیلنج کرتی وال پینٹنگز (Graffiti) نظر آتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے نئی دہلی میں دوبارہ احتجاج کا امکان، میٹرو اسٹیشنز بند، ٹریفک پر پابندیاں عائد
اس ماہ کشیدگی اس وقت دوبارہ پیدا ہوئی جب پولیس نے ووٹر فہرستوں میں متنازعہ ترمیم پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے کارکروچ پارٹی کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بدھ کے روز سی جے پی کے 2 اہم رہنماؤں کو، جنہوں نے ایک دن پہلے ’جنتر منتر کو واپس حاصل کرنے‘ کے لیے بیریکیڈز کو پھلانگا تھا، مبینہ طور پر بغیر اجازت حد پار کرنے کے جرم میں 5 دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
گروپ کے بانی ابھجیت دیپکے نے حراست سے قبل کہا ’جنتر منتر صرف ایک جغرافیائی جگہ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ مزاحمت کا ایک ایسا جذبہ ہے جسے کوئی کبھی ختم نہیں کر سکتا۔‘

دہلی پولیس نے منگل کو اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی اس ہدایت کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ احتجاج کے لیے ’مناسب متبادل مقامات کی نشاندہی اور تعین‘ کی ضرورت ہے۔ اس تمام پیشرفت نے اس بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے کہ شہری اب اپنے گلے شکوے اور مطالبات لے کر کہاں جائیں گے۔
شبنم ہاشمی کا کہنا تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج پر حالیہ برسوں میں ویسے ہی جگہ اور وقت کی پابندیوں کے ذریعے سختیاں بڑھا دی گئی تھیں۔ تاہم اس کے محل وقوع نے اسے منفرد طور پر موثر بنایا تھا کیونکہ مظاہرین آسانی سے پارلیمنٹ، سرکاری وزارتوں اور میڈیا ہاؤسز تک پہنچ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا ’جمہوریت میں آپ کو ایسی جگہوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں آپ احتجاج کر سکیں، یہ فیصلہ بالکل ناقابلِ قبول ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے مضافات میں 2 مقامات پر مظاہرے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مرکز کے قریب ایک تیسرا مقام ’رام لیلا میدان‘ بڑے اجتماعات کے لیے دستیاب رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھجیت ڈپکے دہلی ایئرپورٹ پر جہاز سے گرفتار
تاہم، انسانی حقوق کے فعال کارکنوں کا استدلال ہے کہ شہر کے مرکز سے دور احتجاج منتقل کرنے سے خاص طور پر دور دراز ریاستوں سے آنے والے مظاہرین کے لیے عوامی شرکت اور میڈیا کی توجہ کم ہونے کا خطرہ ہے۔ زائد سفری اخراجات، طویل سفر اور میڈیا کی کم کوریج سے مظاہروں کا اثر زائل ہو سکتا ہے۔
منگل کے روز ایک مظاہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس آرڈر کے باوجود مظاہرین جنتر منتر پر جمع ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے پولیس کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے سے قبل کہا ’ہم تمام تر عزم کے ساتھ سول نافرمانی کریں گے، ہم یہاں بیٹھیں گے اور احتجاج کریں گے۔‘














