وزیراعظم کے مشیر خاص سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی آئینی طور پر عہدے سے ہٹ چکے ہیں اور ان پر درج مقدمات کا سامنا انہیں کرنا پڑے گا۔
نجی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں وزیراعظم کے مشیر خاص سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی کے مستقبل کے حوالے سے کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
ان کے خلاف متعدد کیسز ہیں اور ایف آئی آر بھی درج ہیں، لہٰذا انہیں ان تمام مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کتنے عرصے تک جیل میں رہیں گے، اس حوالے سے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، بہرحال انہیں آئینی طور پر وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کی آئینی مدت
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آئین کے مطابق 2، 2 ماہ کے لیے گورنر راج لگایا جا سکتا ہے اور اس کی مدت 6 ماہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ 6 ماہ کے بعد گورنر راج مزید نہیں رکھا جا سکتا تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے کوئی مخصوص مدت نہیں ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 6 ماہ کے بعد اسمبلی بحال ہو جائے گی اور اس کے بعد حکومت کا انتظام 11 رکنی کونسل ہی چلائے گی۔ اسمبلی بحالی کے بعد بھی ایمرجنسی کے تحت لایا گیا سسٹم ہی جاری رہے گا۔
پی ٹی آئی کے مطالبات اور بیرونی ناکام کوششیں
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی پی ٹی آئی حکومت وفاق سے مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ آپ دہشتگردوں سے بات چیت کریں اور انہیں سمجھائیں۔
قطر، ترکیہ اور چین جیسے ممالک بھی بات کر کے دیکھ چکے ہیں لیکن وہ دہشتگرد کوئی بات مانتے ہی نہیں۔ ان کے خلاف جو آپریشن لانچ کیا گیا ہے وہ مکمل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ ہونا چاہیے اور اس معاملے میں کوئی مذاکرات یا جرگہ نہیں ہونا چاہیے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کی آباد کاری کس نے کی؟
جہاں بھی دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہیں انہیں مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی والے آپریشن پر متفق ہونے کی بات کر کے اسے مشروط بنانا چاہتے تھے، جبکہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ایک عرصے سے جاری ہے۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کابل میں ایک چائے کا کپ پی کر کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پاکستان لانے والوں نے ان کو پاکستان میں آباد کرنے کا باقاعدہ مقدمہ لڑا اور اس وقت کی حکومت نے اس کی باقاعدہ منظوری دی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایک میٹنگ میں جنرل فیض حمید اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کا بھرپور دفاع کیا اور مقدمہ لڑا کہ طالبان کے 30 سے 35 ہزار لوگ ہیں جن کو واپس لانے کی اجازت ہونی چاہیے، جن میں 7 سے 8 ہزار جنگجو جبکہ باقی ان کے بیوی بچے ہیں۔
انہوں نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ اگر ان کے بچے اُدھر ہی بڑے ہو گئے تو وہ بھی دہشتگرد بن جائیں گے، لہٰذا ہم ان کو واپس پاکستان لا کر آباد کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ یہ طالبان ہتھیار پھینک دیں گے، لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ خواب آج تک پورا نہیں ہوا۔
ایک اور سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس پالیسی کی منظوری اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے ہی دی، حکومت کی منظوری کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔
بھارت کا کردار، ضرب عضب اور سیاسی حل
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بھارت ان تمام دہشتگردوں کے پیچھے ہے اور ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ماضی میں جب آپریشن ضرب عضب ہوا تھا تو ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا۔
مزید پڑھیں:عسکری و سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے اسلام آباد میں کسی کو احتجاج نہیں کرنے دیا جائے گا، رانا ثنا اللہ
جو لوگ دہشتگردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں انہیں راستے سے ہٹایا جانا چاہیے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کرنا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف اپنا مثبت کردار ادا کرنے پر راضی ہو جاتی ہے تو اس سے تمام سیاسی مسائل کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔
پشاور اسکول سانحہ اور تعلیمی عمارتوں کے لیے پالیسی
پشاور دیر کالونی کے اسکول سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی دلخراش ہے اور جاں بحق بچوں کے والدین سے دلی ہمدردی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اسکول کی عمارتوں کے حوالے سے ایک ٹھوس پالیسی بنائی جانی چاہیے اور تمام اسکولوں کی باقاعدہ فزیبلٹی رپورٹ بننی چاہیے۔
اسکولوں کا آڈٹ کروانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر روایتی آڈٹ کروائیں گے تو ہر محکمہ کھا جائے گا، اس لیے حکومت کو خود ان عمارتوں کو بہتر کروانا چاہیے۔
صرف چیکنگ اور سزا دینے سے ہٹ کر بھی عملی اقدامات کرنے چاہییں، تمام اسکولز کی عمارتوں کا آڈٹ ہونا چاہیے اور حکومت کو ان پرائیویٹ اسکول مالکان کو عمارتوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ’سافٹ لون‘ فراہم کرنے چاہییں کیونکہ ان پرائیویٹ اداروں نے ملک میں 60 فیصد تعلیم کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔













