برطانیہ میں سویڈن کے بدنام زمانہ مجرمانہ نیٹ ورک کے لیے کرائے کے قاتل کے طور پر قتل کی سازش میں ملوث 19 سالہ نارویجن نوجوان کو عدالت نے 20 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
لندن کی وول وچ کراؤن کورٹ میں جج بوبی چیما گروب نے ملزم کو رقم کے عوض ایک نامعلوم شخص کو قتل کرنے کا معاہدہ کرنے پر یہ سزا سنائی۔
سزا پانے والے 19 سالہ جوہانس کونگسنیس نیٹ لینڈ نے مارچ 2025 میں 25000 یورو (تقریباً 28000 ڈالر) کے عوض ایک نامعلوم شخص کو گولی مار کر قتل کرنے کے لیے برطانیہ کا سفر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں 10 سالہ پاکستانی بچی سارہ شریف کا قتل، الجھن سلجھ نہ سکی
تاہم اس سے پہلے کہ وہ اپنے اس خونی منصوبے پر عمل درآمد کر پاتا، برطانوی پولیس نے شمالی انگلینڈ کے ایک ہوٹل سے اسے گرفتار کر لیا۔
عدالت میں سزا سناتے ہوئے جج بوبی چیما گروب نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے محض 18 سال کی عمر میں رقم کے عوض ایک انسان کے قتل پر رضامندی ظاہر کی۔
جج نے ملزم سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس کیس کے مرکز میں ایک تلخ حقیقت ہے کہ تم نے ایک غیر ملک میں ایک ایسے شخص کو قتل کرنے کا معاہدہ کیا جو تمہارے لیے مکمل طور پر اجنبی تھا اور تم اس کی زندگی یا حالات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔
ہوٹل کے کمرے سے اسلحہ اور گولیوں کی برآمدگی
پولیس کو ملزم کے ہوٹل کے کمرے میں بیڈ کے نیچے چھپائے گئے ایک پلاسٹک کے تھیلے سے 2 آتشیں اسلحے اور زندہ کارتوس ملے۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے یہ مہلک ہتھیار ہوٹل کے قریب واقع جنگل نما علاقے سے حاصل کیے تھے۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق نیٹ لینڈ کو سویڈن کے منظم مجرمانہ گروہ ‘فاکس ٹروٹ’ نے اس کام کے لیے کام پر رکھا تھا، جس پر برطانیہ کی حکومت نے پہلے ہی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
اس گینگ کا مفرور سربراہ راوا مجید ہے، اس نیٹ ورک کو 2010 کے دہائی کے آخر میں سویڈن میں دسیوں پرتشدد جرائم سے جوڑا جاتا رہا ہے۔
ایک اچھے طالب علم کا منشیات کے دلدل میں گرنا
جج نے فیصلے میں اشارہ کیا کہ نیٹ لینڈ ماضی میں ایک مالی طور پر مستحکم اور محفوظ گھرانے سے تعلق رکھنے والا ’اچھا طالب علم‘ تھا، جس کی زندگی چرس اور کلاس اے کی منشیات کی وجہ سے تباہ ہوئی اور اس کے والدین کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی۔
مزید پڑھیں:فرانس کی سپر مارکیٹوں میں اچانک فریج گرم ہونے لگے، درجۂ حرارت 50 ڈگری تک کیسے پہنچا؟
جج نے ملزم کی کم عقلی کا ذکر تو کیا لیکن یہ واضح کیا کہ وہ اپنے افعال کا مکمل طور پر ’ذمہ دار ‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمہیں انگلینڈ جا کر ایک نامعلوم ہدف کو قتل کرنے کے لیے بھرتی کیا گیا تھا اور تم نے اپنے آپ کو اس دلدل سے نکالنے کے متعدد مواقع کے باوجود اس راستے کو اختیار کیا۔
عدالت میں جرم کا اعتراف اور عجیب و غریب مؤقف
لندن کی اولڈ بیلی کورٹ میں جیوری نے جولائی میں نیٹ لینڈ کو قتل کی سازش کا مجرم قرار دیا تھا، جبکہ اس نے آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔
عدالت میں شہادت دیتے ہوئے نیٹ لینڈ نے دعویٰ کیا کہ اس کا ارادہ قتل کرنے کا نہیں تھا بلکہ وہ اس مشن سے انکار کے بعد پیدا ہونے والے نتائج اور انتقام سے بچنے کے لیے ’اپنے پیر میں گولی مارنے‘ کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
بین الاقوامی روابط اور دیگر ملزمان کے خلاف کارروائیاں
کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ لندن کے سربراہ کمانڈر ہیلن فلیناگن کا کہنا تھا کہ نیٹ لینڈ کو واضح طور پر ‘فاکس ٹروٹ نیٹ ورک’ سے منسلک شخص نے یہ ٹاسک دیا تھا۔
پولیس نے انکشاف کیا کہ نیٹ لینڈ نے ناروے میں موجود اپنے دوستوں کو ہتھیاروں کی تصاویر سمیت مختلف پیغامات بھیجے تھے۔
نیٹ لینڈ کو بھرتی کرنے والے ایک 17 سالہ نوجوان کو مئی 2025 میں ناروے میں ’قتل میں معاونت کی کوشش‘ کے جرم میں سزا سنائی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ فلسطینیوں کی حمایت میں سامنے آگیا، اسرائیلی آبادکاری کے خلاف پابندیوں کا اعلان
اس کے علاوہ گزشتہ ماہ ناروے میں مزید 3 نارویجن نوجوانوں کے خلاف برطانیہ میں قتل کی منصوبہ بندی میں مدد کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ شروع ہوا ہے۔
اس تمام تر کارروائی اور تحقیقات کے باوجود ہدف بنائے جانے والے شخص کی شناخت اب تک مکمل طور پر راز بنا ہوا ہے۔













