وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ خود چلاتے ہیں اور ان کی مزاحیہ پوسٹس ان کی ذاتی زندگی کا حصہ ہیں، وہ وزیر دفاع ہونے کے باوجود اپنی شناخت اور مزاحیہ انداز نہیں چھوڑ سکتے۔
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف سے سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹس اور ان پر بننے والی میمز سے متعلق سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنا اکاؤنٹ 200 فیصد خود چلاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس کے ذریعے مزاح کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راج ناتھ سنگھ بمقابلہ خواجہ آصف: کون بہادر؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ ایک عام انسان ہیں اور ان کی زندگی میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ وہ کوئی مصنوعی لبادہ اوڑھنا نہیں چاہتے بلکہ جیسے ہیں ویسے ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر وہ وزیر دفاع ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خواجہ آصف رہنا چھوڑ دیں یا اپنی شناخت ختم کر دیں۔ ان کے مطابق عہدے پر فائز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنی ذاتی شخصیت اور مزاحیہ انداز ترک کر دے۔
انہوں نے ایک پوسٹ کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 1956 کی ایک تصویر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب مزاحیہ انداز میں دیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ تصویر میں کون سی چیز اس زمانے کی نہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ گھڑی۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کو نشان امتیاز دیں یا جرات: کوئی اعتراض نہیں، حنیف عباسی
خواجہ آصف نے کہا کہ اس میں کوئی غیر سنجیدہ یا نامناسب بات نہیں تھی کہ اس پر اس قدر تبصرے کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ پوسٹس تفریح کے لیے کرتے ہیں اور انہیں اس سے لطف آتا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق وہ عموماً رات 11 سے 12 بجے کے بعد، جب فارغ ہوتے ہیں، ایسی پوسٹس کرتے ہیں۔













