امریکا میں ایک نایاب مگر خطرناک فنگل انفیکشن کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو صحت مند افراد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
صحت عامہ کے حکام نے اس صورت حال کے پیش نظر بیماری سے متعلق آگاہی بڑھانے اور ملک بھر میں کیسز کی باقاعدہ نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں کینسر کے 12 فیصد نئے کیسز کا تعلق انفیکشنز سے ہونے کا انکشاف
امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، کلاڈوفیالوفورا بینٹیانا نامی فنگس دماغ کو متاثر کر سکتا ہے، جو سیاہ رنگ کی خمیر نما پھپھوندی ہے، جس میں میلانن نامی گہرا رنگ پیدا کرنے والا مادہ موجود ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کی ایک مائیکرو بائیولوجی لیبارٹری کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 سے 2025 کے دوران اس فنگس کی شناخت کے واقعات میں تقریباً 4 گنا اضافہ ہوا۔
Deadly, brain-liquifying fungus is on the rise in the US – and scientists don't know why https://t.co/p6uTvQZkuh pic.twitter.com/2RB1LfNNtE
— New York Post (@nypost) October 14, 2026
رپورٹ کے مطابق، جنوری 2009 سے جولائی 2026 تک 21 امریکی ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سے حاصل کیے گئے ٹشو کے نمونوں میں اس فنگس کے 48 مصدقہ اور ایک مشتبہ کیس کی نشاندہی ہوئی، متاثرہ افراد کی درمیانی عمر 68 سال تھی۔
عام طور پر متعدد فنگل انفیکشن ایسے افراد کو زیادہ متاثر کرتے ہیں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو، تاہم اس فنگس کے تقریباً نصف کیسز ایسے افراد میں سامنے آئے جو بظاہر صحت مند تھے۔
فنگس جسم میں کیسے داخل ہوتا ہے؟
محققین کے مطابق، یہ فنگس سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے یا جلد پر زخم کے ذریعے جسم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ خون کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتا ہے۔
سی ڈی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 88 فیصد کیسز میں فنگس کی شناخت دماغی ٹشو کے نمونوں میں ہوئی، جبکہ 12 فیصد کیسز میں یہ پھیپھڑوں کے ٹشو میں پایا گیا۔
یہ نتائج اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ سانس کے ذریعے فنگس کا جسم میں داخل ہونا انفیکشن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
طبی جریدے میڈیکل مائیکولوجی میں شائع ہونے والے ایک منظم جائزے کے مطابق، اس انفیکشن سے متاثرہ افراد میں شرح اموات 60 سے 70 فیصد تک ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ انتہائی مؤثر طبی علاج کی فراہمی کے باوجود بھی۔
2 سال میں کیسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ
ماضی میں اس فنگس کے کیسز انتہائی نایاب تھے۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن کی لیبارٹری میں 2009 سے 2023 کے دوران سالانہ صرف ایک سے 5 کیسز کی شناخت ہوتی تھی۔
تاہم، رپورٹ کے مطابق 2024 میں سالانہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 8 ہو گئی، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 14 تک پہنچ گئی۔
محققین نے یہ جانچنے کے لیے کہ آیا کیسز میں اضافہ صرف ٹیسٹنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ تو نہیں، فنگل انفیکشن کی جانچ کے لیے بھیجے گئے دماغی ٹشو کے مجموعی نمونوں کے مقابلے میں مثبت نتائج کا جائزہ لیا۔
مزید پڑھیں: کیا انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوگا؟ عمر پلٹنے والی جین تھراپی کے تجربات شروع
نتائج کے مطابق، 2017 سے 2023 کے دوران ہر ایک ہزار نمونوں میں اوسطاً 8.4 کیسز سامنے آئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر ہر ایک ہزار نمونوں میں 26 ہو گئی۔
سی ڈی سی کے مطابق، اس اضافے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہیں۔ حکام نے بیماری کے پھیلاؤ اور رجحانات کا بہتر اندازہ لگانے کے لیے ملک بھر میں کیسز کی منظم رپورٹنگ کا نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔
ماہرین صحت نے ڈاکٹروں پر زور دیا ہے کہ دماغ میں پھوڑے کی علامات والے مریضوں کا معائنہ کرتے وقت اس نایاب فنگس کو بھی ممکنہ وجہ کے طور پر مدنظر رکھیں۔
مزید پڑھیں: بلڈ شوگر کا اچانک بڑھنا ہر بار خطرناک نہیں، ماہرین نے اہم حقیقت بتا دی
علاج میں عموماً متاثرہ ٹشو کو سرجری کے ذریعے نکالنا اور ایک سے زیادہ اینٹی فنگل ادویات استعمال کرنا شامل ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، اس فنگس کے بڑھتے ہوئے کیسز، تشخیص میں مشکلات اور بلند شرح اموات کے باعث اس مرض کی نگرانی اور بروقت شناخت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔












