دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک ٹیکنالوجی کے میدان میں حیران کن کامیابیوں کے ساتھ ایک بار پھر سرخیوں کی زینت بن گئے ہیں۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گہرا سیاسی اتحاد اور رائٹ ونگ سیاست میں بے باک کردار ان کی ماضی کی بے مثال سائنسی شہرت کو دھندلا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کے سوشل میڈیا پروفیسر اینڈریو سلپاک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1950 کی دہائی سے خلائی سفر اور اڑنے والی گاڑیوں کے جو وعدے کیے گئے تھے، مسک وہ سب کر دکھا رہے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ہم انہیں وہ توجہ اور حیرت نہیں دے رہے جس کے وہ حقیقت میں مستحق ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں مسک کی کامیابیاں ہر جگہ نظر آئیں، جہاں 28 ستمبر کو اسپیس ایکس کے ’ اسٹار شپ ‘ میگا راکٹ نے پہلی بار مدار میں پہنچ کر 26 ’ اسٹار لنک ‘ سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا اور پھر بحر الکاہل میں لینڈنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں:سائنس فکشن حقیقت میں تبدیل: ایلون مسک کی فلائنگ کار نے ’اڑان‘ بھر لی
یہ تاریخی پیش رفت مسک کے مریخ پر انسانوں کو آباد کرنے کے عزائم کا بنیادی سنگِ میل ہے۔
عالمی جیو پولیٹکس، ایکس اور تنازعات
عالمی سیاست اور سیکیورٹی میں بھی مسک کا مرکزی کردار واضح رہا ہے، جس کی مثال یوکرین کا اپنے فوجی مواصلاتی نظام ’ اسٹار شیلڈ ‘ میں خلل پڑنے کی شکایت کرنا ہے۔
دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ ایکس ‘ (سابقہ ٹوئٹر) کا ایک بار پھر عروج دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ پلیٹ فارم اب سلیکون ویلی کے ماہرین اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے موضوعات پر گفتگو کا سب سے بڑا عالمی مرکز بن چکا ہے۔
رائٹ ونگ سیاست، ڈوج اور ملازمتوں کا خاتمہ
ان تمام کامیابیوں کے باوجود دائیں بازو کی سیاست سے ان کی وابستگی نے ان کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
فروری 2025 میں ارجنٹائن کے صدر جیوئیر مائلی کی طرف سے ملنے والی آری کو مسک نے اسٹیج پر لہرایا تھا، جو کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں ’ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی ‘کے سربراہ کے طور پر ان کے ہدف کی علامتی تصویر بن گئی۔
مزید پڑھیں:مکیش امبانی نے بی جے پی کو کتنے فنڈز جاری کیے، ایلون مسک نے بھارتی بزنس ٹائیکون کے مزید راز اُگل دیے
ڈوج کے ذریعے مسک کے حامیوں نے وفاقی ایجنسیوں میں شدید کٹوتیاں کیں، جس کے نتیجے میں ’ یو ایس ایڈ ‘ کو عملی طور پر ختم کر دیا گیا اور اس عمل سے لاکھوں نوکریاں ختم ہوئیں۔
’ قومی اثاثہ ‘ اور مڈ ٹرم الیکشنز میں کروڑوں ڈالرز کے فنڈز
ایکس پر مسک کی جانب سے سخت گیر مہاجرین مخالف بیانات اور سائنسی پیش رفت کی پوسٹس ایک ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں۔
مئی 2025 میں ڈوج سے الگ ہونے اور ٹرمپ سے اختلافات کے بعد اب مسک کی دوبارہ ٹرمپ سے قربت قائم ہو چکی ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے مسک کو ملک کا سب سے بڑا سائنسی میڈل دیتے ہوئے انہیں ’ قومی اثاثہ ‘ اور ’ جدید دور کا تھامس ایڈیسن ‘ قرار دیا ہے۔
یہ قربت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسک نے آئندہ ماہ ہونے والے مڈ ٹرم الیکشنز کے لیے ریپبلکن مہم میں 276 ملین ڈالرز دیے ہیں، جس میں سے 158 ملین ڈالرز صرف ٹیکساس میں اشتہاری مہم پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
ہالی ووڈ کی فلم، سابق اہلیہ کا بیان اور حکومتی انحصار
بائیں بازو کے تجزیہ کاروں کے نزدیک مسک اب انسان دوست سائنس دان کے بجائے ٹرمپ اور ہائی ٹیک ارب پتیوں کے نمائندے بن چکے ہیں۔
اس منظر نامے پر آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز الیکس گبنی کی 4 گھنٹے پر مشتمل دستاویزی فلم ’ مسک ‘ بھی سینما گھروں کی زینت بنی ہے۔
فلم میں ان کی پہلی اہلیہ جسٹین مسک نے بتایا کہ مسک ایسی شخصیت ہیں جو پہاڑ سے چھلانگ لگا کر نیچے گرتے ہوئے پیراشوٹ ایجاد کر سکتے ہیں اور وہ افراتفری میں ہی نکھرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسک کا واشنگٹن کی سیاست پر پیسہ لگانا صرف سیاسی نظریہ نہیں بلکہ ایک کاروباری سرمایہ کاری ہے۔
مزید پڑھیں:ایلون مسک نے مکیش امبانی کو ’وزیراعظم‘ کہہ کر اسٹار لنک کی اجازت طلب کرلی
جون میں سب سے بڑے آئی پی او کے ساتھ پبلک ہونے والی ان کی کمپنی اسپیس ایکس ناسا اور پینٹاگون کے اربوں ڈالرز کے کانٹریکٹس پر چلتی ہے، جبکہ ٹیسلا کی روبو ٹیکسی کا مستقبل امریکی ریگولیٹرز کی منظوری پر منحصر ہے، جس کے لیے حکومت سے اچھے تعلقات ناگزیر ہیں۔
ایلون مسک ایک طویل عرصے سے خلائی تسخیر، الیکٹرک گاڑیوں اور تکنیکی ایجادات کے میدان میں دنیا کے سب سے آگے رہنے والے رہنماء سمجھے جاتے رہے ہیں۔
تاہم، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی خرید و فروخت اور امریکی صدارتی انتخابات کے دوران دائیں بازو کے خیالات کی کھلم کھلا حمایت نے ان کی غیر سیاسی سائنسی شناخت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں وفاقی اخراجات میں کٹوتیوں کے لیے قائم کردہ ادارے ‘ڈوج’ کی سربراہی سنبھالنے کے بعد سے ان کا سیاسی اثر و رسوخ اپنی بلندیوں پر پہنچ گیا، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ترقی پسند اور سیاسی حلقوں میں ان کے خلاف شدید ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔











