کفایت شعاری اقدامات کے تحت پاکستان ریلوے نے اپنے تمام افسران کے فضائی سفر پر پابندی کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز کی اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت
اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ افسران کو فضائی سفر کی مد میں کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی۔
پاکستان ریلوے نے سرکاری گاڑیوں میں سفر پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ تمام افسران سرکاری دوروں کے لیے بذریعہ ریل سفر کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ ہدایات تمام چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور سینئر جنرل منیجرز کی منظوری سے جاری کی گئی ہیں۔
دریں اثنا پاکستان ریلوے (پی آر) نے محفوظ ٹرین آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایات پر محکمہ بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان ریلوے کا سب سے بڑا منصوبہ، ایم ایل ون: کام کب شروع ہوگا؟
لاہور میں پی آر ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق فیلڈ افسران کی تمام چھٹیاں 3 ماہ کے لیے منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ افسران کو ٹرین آپریشنز کی نگرانی کے لیے اتوار کے روز بھی فیلڈ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سول اور مکینیکل چیف انجینئرز اپنے متعلقہ ذمہ داری کے علاقوں کے حوالے سے روزانہ رپورٹس وزارت کو جمع کرائیں گے۔ ہیڈ آف سیفٹی سے بھی روزانہ رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ ایمرجنسی 31 دسمبر تک نافذ رہے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان ریلوے کی آمدن 88 ارب سے بڑھ کر 115 ارب روپے ہوگئی، جلد نئے فریٹ منصوبے شروع کریں گے، حنیف عباسی
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے وژن کے مطابق مسافروں کو ممکنہ طور پر محفوظ ترین سفر فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔











