وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن پاکستان ریلوے کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ منصوبے کی تکمیل سے مسافروں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ مال بردار ٹرینوں کی نقل و حمل میں بھی اضافہ ہوگا۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات اور ایم ایل ون منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس میں وزیراعظم نے مین لائن ون یعنی ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے کام کو تیز کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز کی اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ نئی شراکت داری، ایم ایل ون سمیت اہم منصوبوں پر غور
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی نشاندہی شدہ اراضی کو کمرشل بنیادوں پر بروئے کار لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے کی قیمتی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ اثاثے قومی معیشت اور ریلوے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے مین لائن ون (ML-1) کی اپ گریڈیشن پر تیزی سے کام کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز پر اصلاحات کی ہدایت کردی.
وزیراعظم نے پاکستان ریلوے کی قبضہ شدہ… pic.twitter.com/BKtfAgqpIu
— Prime Minister's Office (@PakPMO) October 7, 2026
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو مضبوط اور معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز کی اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے ریلوے کو منافع بخش بنانے اور اس کے آپریشنز کو بہتر کرنے کے لیے وزیر ریلوے کی کوششوں کو بھی سراہا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینک فنانسنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دی۔
مزید پڑھیں: ایم ایل ون کی تکمیل کے لیے حکومت نے جاپان سے تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا
انہوں نے ریلوے اراضی کی حقیقی تجارتی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں میں ایک جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 1726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون منصوبے کی اپ گریڈیشن کو 4 بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں کراچی تا روہڑی، روہڑی تا ملتان، ملتان تا لاہور اور لاہور تا پشاور شامل ہیں۔
کراچی تا روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ استعمال کی جارہی ہے، جبکہ ایم ایل ون کے دیگر حصوں کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کا ایشیائی ترقیاتی بینک کا دورہ، ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے کی درخواست
اجلاس میں ایم ایل ون کی تعمیر کے مختلف مراحل، کراچی تا روہڑی سیکشن پر پیش رفت اور ریلوے کی سرکاری اراضی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے نیب اور وزارت ریلوے کی ٹیموں کی جانب سے ریلوے کی تجاوزات سے واگزار کرائی گئی اراضی کی نشاندہی اور تصرف کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ریلوے کی واگزار شدہ اراضی کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے اور ایم ایل ون کے لیے بینک فنانسنگ کے حصول سے متعلق جامع لائحہ عمل 2 ہفتوں میں پیش کیا جائے۔














