وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہدا کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں اسکول میل پروگرام کے تحت 90 ہزار بچے اسکول آئے، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات
صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ مولانا کے شہدا سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہیں، شہدا کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے کیا کیا اور صوبے کے عوام کی حفاظت کے لیے کس نے قربانیاں دیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ ان کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
اس موقعے پر صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی 13 سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے اور اس کے دور میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: اگلے سال سے پنجاب میں امتحانی پرچے کیسے چیک ہوں گے؟ وزیر تعلیم نے جدید طریقہ بتادیا
سلمیٰ بٹ نے واضح کیا کہ گورنر راج نہ کسی کی خواہش تھی اور نہ ہی اسے سیاسی حل سمجھا گیا بلکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج مجبوری کے تحت نافذ کیا گیا۔











