مسلم لیگ (ن) کے رہنما بہرامند تنگی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت پر دہشتگردوں کی سہولت کاری، بدعنوانی اور عوام کو غیر محفوظ چھوڑنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی تعلقات اپنی جگہ، لیکن ریاست اور پاک فوج کے شہدا کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ ضروری ہے۔
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بہرامند تنگی نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں اور گزشتہ 45 برس سے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیتے آئے ہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 برسوں کے دوران جو کچھ ہوا، وہ صوبے، عوام اور اداروں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ اہم، حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان کراس فائر رکنا چاہیے، رانا ثنااللہ
بہرامند تنگی نے الزام عائد کیا کہ 2024 سے 2026 کے دوران تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے دہشتگردی کے خلاف اپنی ذمہ داریوں سے لاتعلقی اختیار کی اور صوبے کے 5 کروڑ عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ سابق صوبائی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان حکومت کی سہولت کاری کی، جبکہ دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں کے جنازوں میں شرکت تک نہیں کی جاتی تھی۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے ریاست مخالف بیانیے کے بھارتی میڈیا پر چرچے
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد حملوں کی مذمت نہ کرنا اور دہشت گرد تنظیموں کا نام لینے سے گریز کرنا صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی تھی۔
گورنر راج سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اصولی طور پر جمہوریت میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے حامی نہیں، لیکن جب عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے جائیں تو غیر معمولی حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی انتظامیہ، وفاقی حکومت اور مرکزی اداروں کے درمیان اتفاق رائے سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: امان اللہ کی جائیداد پر نوٹس، جے یو آئی کی تشویش پر حسن ہاشمی کے سوالات
خیبرپختونخوا میں تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں پر بہرامند تنگی نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران سرکاری زمینوں پر غیر قانونی عمارتیں اور تجارتی مراکز قائم کرکے اربوں روپے کمائے گئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں تحریک انصاف سے وابستہ افراد اور بعض سرکاری عہدیدار بھی ملوث رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف عمارتیں گرانا کافی نہیں، بلکہ ان کی تعمیر کی منظوری دینے، دستاویزات تیار کرنے اور نقشے منظور کرنے والے افراد کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: نئے سیٹ اپ میں نظر انداز ہونے پر مولانا فضل الرحمان شدید مایوس ہیں، خواجہ آصف
میزبان نے نشاندہی کی کہ کئی تجاوزات 13 سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ اس سے اتفاق کرتے ہوئے بہرامند تنگی نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں بھی اس نوعیت کی بے ضابطگیاں جاری رہیں۔
انہوں نے معدنیات کے اجازت ناموں کا حوالہ دیتے ہوئے مختلف ادوار میں ہزاروں اجازت نامے جاری کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تجاوزات کے خلاف کارروائیوں سے 98 فیصد شہریوں کو فائدہ پہنچتا ہے تو عوام ان اقدامات کی حمایت کریں گے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے بیان پر اوورسیز پاکستانی کا سخت ردعمل، ریاست اور سیاست میں فرق ملحوظ رکھنے کا مطالبہ
بہرامند تنگی نے تحریک انصاف کے رہنماؤں پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران بعض ارکان اسمبلی، سینیٹرز اور وزرا کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق، جو لوگ کبھی معمولی مالی حیثیت رکھتے تھے، آج کروڑوں روپے کے مالک بن چکے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور امیر مقام سے مطالبہ کیا کہ مبینہ بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ وہ محض ضمانت حاصل کرکے احتساب سے نہ بچ سکیں۔
مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے بہرامند تنگی نے تسلیم کیا کہ دونوں کے درمیان ماضی میں اچھے سیاسی روابط رہے ہیں اور مختلف آئینی و سیاسی معاملات میں تعاون بھی ہوتا رہا ہے۔
تاہم، انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے پاک فوج کے شہدا، ریاست اور ملکی اداروں کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی۔
بہرامند تنگی کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں سیاسی تعلقات کو ایک طرف رکھ کر ریاست اور شہدا کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے خلاف نیب کارروائی میں جلد پیشرفت متوقع ہے، عمران آشنا
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خود کو ایک بڑا سیاسی رہنما سمجھتے ہیں، لیکن ان کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ کسی عام سیاسی کارکن کے شایان شان بھی نہیں ہیں۔
بہرامند تنگی نے مولانا فضل الرحمان کے طرزِ زندگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ماضی میں محدود وسائل رکھنے والے رہنما آج مہنگے موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور لاکھوں روپے مالیت کی کرسیوں پر بیٹھ کر پریس کانفرنسیں کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان سے محاذ آرائی ن لیگ کی پالیسی نہیں، دوسری قسط نہیں آئے گی، رانا ثنا اللہ
انہوں نے پی ڈی ایم حکومت کے دور میں مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود اور جمعیت علمائے اسلام کی بلوچستان کی قیادت سے وابستہ بعض افراد پر بھی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان معاملات پر سوالات اٹھائے گئے، لیکن تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، بلکہ سوالات واپس لینے کے لیے بھی کہا جاتا رہا۔










