غزہ میں اسرائیلی جارحیت؛ عالمی عدالت انصاف آج عبوری فیصلہ سنائے گی

جمعہ 26 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے ججز آج اپنا فیصلہ سنائیں گے کہ آیا اسرائیل کو اپنی فوجی مہم کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے یا نہیں، جنوبی افریقہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت میں اسرائیل کیخلاف غزہ میں ریاستی جبر اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات کے مقدمہ کی کارروائی جاری ہے۔

عدالت مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیلی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے اپنا فیصلہ جاری کرے گی، جس کی سماعت ایک گھنٹے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

عدالت اس بارے میں فیصلہ نہیں کرے گی کہ آیا اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں نسل کشی کی کارروائیاں کا مرتکب ہوا ہے کہ نہیں، کیونکہ اس ضمن میں درکار عدالتی کارروائی میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں، لیکن شاید ایسا حکم جاری کیا جاسکتا ہے جس سے اسرائیل کو دیگر ’ہنگامی اقدامات‘ کے ساتھ اپنی کارروائیاں معطل کرنے پر مجبور کیا جائے۔

جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف سے کئی ہنگامی اقدامات کی درخواست کی ہے، جن میں اسرائیل سے غزہ میں فوجی آپریشن معطل کرنا، فوجی کارروائیوں میں مزید اضافہ نہ کرنا، اور فلسطینی سرزمین میں مناسب انسانی امداد کو داخلے کی اجازت دینا شامل ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایک ممکنہ منظر نامہ یہ ہے کہ عدالت مکمل جنگ بندی کا حکم دینے میں ناکام رہے گی، لیکن اس کے بجائے اسرائیل کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ محصور انکلیو میں مناسب انسانی امداد کی اجازت دے، اگرچہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ حتمی ہے اور اس میں اپیل کا عمل نہیں ہے، لیکن اس کے پاس اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

مقدمے کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل نے استدلال کیا ہے کہ عالمی عدالت کے پاس اس مقدمے کا دائرہ اختیار نہیں ہے اور جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے الزامات کو ’سخت مسخ شدہ‘ اور یہود مخالف حوالوں سے ’خون کی توہین‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے وہ عالمی عدالت انصاف کے کسی بھی جنگ بندی کے احکامات کی پابندی کرے گی اگر اسرائیل بھی ایسا ہی کرے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف یہ بھی فیصلہ کر سکتی ہے کہ اس کے پاس اس کیس کی سماعت کا دائرہ اختیار نہیں ہے لہذا وہ کسی عبوری اقدامات کا حکم نہ دینے کا انتخاب بھی کرسکتی ہے۔

ملوث فریقین اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسے دیگر چینلز کے ذریعے نسل کشی کے اس مجموعی کیس کی پیروی کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟