مولانا فضل الرحمان نے مدارس بل پر دستخط کے لیے 7 دسمبر کی ڈیڈلائن دے دی

منگل 3 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مدارس بل پر دستخط کے لیے 7 دسمبر کی ڈیڈلائن دے دی۔

یہ بھی پڑھیں صوبے کو مرکز سے لڑانے کے حق میں نہیں، مولانا فضل الرحمان کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید

سربراہ جے یو آئی سے لاہور میں پارٹی رہنما حافظ بلال درانی نے ملاقات کی، اس موقع پر مدارس بل کے حوالے سے معاملات زیربحث آئے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اگر صدر نے 7 دسمبر تک مدارس بل پر دستخط نہ کیے تو 8 دسمبر کو پشاور میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔ پارلیمنٹ سے منظور شدہ مدارس بل پر دستخط نہیں کیے جارہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکومت کی جانب سے اپنی مرضی کی قانون سازی کرلی گئی، بتایا جائے ابھی تک مدارس بل پر دستخط کیوں نہیں کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے حق میں نہیں، پیپلزپارٹی کے بعد مولانا فضل الرحمان کی بھی مخالفت

واضح رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر مدارس بل بھی دونوں ایوانوں سے پاس ہوا تھا، لیکن ابھی تک صدر نے اس پر دستخط نہیں کیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز