فوجی عدالت سے معافی پانے والے پی ٹی آئی کارکنان پشاور جیل سے رہا

جمعرات 2 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

9 مئی کیس میں ثابت ہوجانے کے باوجود فوجی عدالت کی جانب معافی پانے والے پی ٹی آئی کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔

پشاور سینٹر جیل سے رہائی کے موقع پر صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے سنٹرل جیل کے باہر رہائی پانے والے کارکنان کا استقبال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے قیدیوں کی رہائی کیسے ممکن ہے؟ احسن اقبال نے بتا دیا

واضح رہے کہ سانحہ 9 مئی کے مجرموں نے سزاؤں پر عمل درآمد کے دوران، اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے  رحم اور معافی کی پٹیشنز دائر کی تھیں۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق  مجموعی طورپر67 مجرمان نے رحم کی پٹیشنز دائر کی تھیں۔ 48 پٹیشنز کو قانونی کارروائی کے لیے ’کورٹس آف اپیل‘ میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا۔

سانحہ 9 مئی، معافی پانے والے مجرمان

 19 مجرمان جن کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان

2۔سمیع اللہ ولد میرداد خان

3۔لئیق احمد ولد منظور احمد

4۔امجد علی ولد منظور احمد

5۔یاسر نواز ولد امیر نواز خان

6۔سِیعد عالم ولد معاذاللہ خان

7۔زاہدخان ولد محمد نبی

8۔محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان

 9۔  حمزہ شریف ولد محمد اعظم

10۔ محمد سلمان ولد زاہد نثار

11۔ اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ

یہ بھی پڑھیں:9مئی واقعات میں ملوث 19 مجرمان کے لیے معافی کا اعلان بڑی پیش رفت نہیں، بیرسٹر گوہر

 12۔ محمد وقاص ولد ملک محمد خلیل

13۔ سفیان ادریس ولد ادریس احمد

14۔منیب احمد ولد نوید احمد بٹ

15۔ محمد احمد ولد محمد نذیر

16۔ محمد نواز ولد عبدالصمد

17۔ محمد علی ولد محمد بوٹا

18۔ محمد بلاول ولد منظور حسین

19۔ محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم

ترجمان پاک فوج کے مطابق  19مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا۔ ان مجرمان کوضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے۔ دائر کی گئی رحم کی  دیگر پٹیشنوں پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں۔

’سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

یاد رہے کہ  اس سے قبل اپریل 2024 میں قانون کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دانت پیسنے کی عادت: یہ کیفیت کیوں جنم لیتی ہے، نقصانات کیا ہیں؟

‘لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ’ اختتام پذیر: معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی مقام کے لیے واضح لائحہ عمل پیش

شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد انہیں جلد بھلا دیا جائے گا، کنگ چارلس سے منسوب حیران کن گفتگو سامنے آگئی

افغانستان میں 13 ہزار غیر ملکی، 6 ہزار ٹی ٹی پی دہشتگرد سرگرم، تہلکہ خیز رپورٹ منظرِ عام پرآگئی

9ویں جماعت کے خراب نتائج پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اساتذہ پر برہم، کارروائی کا فیصلہ

ویڈیو

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟