افغانستان میں 13 ہزار غیر ملکی، 6 ہزار ٹی ٹی پی دہشتگرد سرگرم، تہلکہ خیز رپورٹ منظرِ عام پرآگئی

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ریسرچ آرگنائزیشن ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طالبان کا 5 سالہ دورِ حکومت سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی محاذوں پر مکمل ناکام رہا ہے، جبکہ افغانستان 20 سے زیادہ عسکری گروہوں اور 13000 غیر ملکی جنگجوؤں کی محفوظ پناہ گاہ بن کر عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

ساؤتھ ایشیا ٹائمز (ایس اے ٹی) کی جانب سے جاری کردہ جامع تحقیقاتی رپورٹ ’طالبان 2.0: دی فائیو ایئر لیجر‘ میں 15 اگست 2021 سے اب تک کی طالبان حکومت کی کارکردگی کا کچا چٹھا کھول دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان کی زیرِ قیادت افغانستان عالمی دہشتگردی کا گڑھ بن گیا، اٹلانٹک کونسل کی تہلکہ خیز رپورٹ

رپورٹ کے مطابق افغان حکومت نے 2020 کے دوحہ معاہدے کی تینوں بنیادی شرائط کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے۔

معاہدے کے تحت رہا ہونے والے تقریباً 5000 طالبان قیدی رہائی کے فوراً بعد دوبارہ تنازعات کا حصہ بن گئے۔

طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بجائے طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کیا اور افغان سرزمین کو دہشتگرد تنظیموں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

دہشتگردی کا گڑھ اور علاقائی امن کو خطرات

رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت افغانستان میں 20 سے زیادہ عسکری تنظیمیں اور 13 ہزار کے قریب غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں۔ صرف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6000 سے 6500 جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کے 600 سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 300 سے زیادہ افغان شہری براہِ راست ملوث پائے گئے۔

مزید پڑھیں:افغانستان کے 5 صوبوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں تیز، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ

اس کے علاوہ داعش خراسان اور القاعدہ جیسی عالمی دہشتگرد تنظیمیں بھی اپنی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی پامالی اور صحافت کا گلا گھونٹنے کی پالیسی

طالبان کے دورِ اقتدار میں بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں۔ اس وقت 1.1 ملین سے زیادہ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم کر دی گئی ہیں، جبکہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کا تناسب تشویشناک حد تک گر کر محض 21 فیصد رہ گیا ہے۔

آزادی صحافت پر بھی کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ پابندیوں کے باعث ملک کے 547 میں سے 219 میڈیا ہاؤسز بند ہو چکے ہیں اور صحافیوں کی تعداد 11857 سے کم ہو کر 4759 رہ گئی ہے۔

اسی ابتر صورتحال کے باعث ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں افغانستان 180 ممالک کی فہرست میں 175 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

معاشی تباہی اور داخلی چپقلش

معاشی محاذ پر افغانستان شدید بحران کا شکار ہے اور 2021 سے اب تک ملکی معیشت مجموعی طور پر 25 فیصد تک سکڑ چکی ہے۔

غربت کے باعث خواتین اور بچوں میں غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے جس سے قریباً 4.9 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں  معدنی وسائل اور تجارتی محصولات کی بندر بانٹ پر طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان رسہ کشی اور اندرونی خلفشار عروج پر ہے۔

سفارتی تنہائی اور نہ بدلنے والا مائنڈ سیٹ

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر طالبان شدید سفارتی تنہائی کا شکار ہیں اور گزشتہ 5 سالوں کے دوران صرف روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں اضافہ، ایک ماہ میں 50 کارروائیوں کا دعویٰ

طویل عرصہ قطر میں قیام اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ فعال رابطوں کے باوجود طالبان کے بنیادی نظریات اور طرزِ حکمرانی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

وہ آج بھی 1990 کی دہائی کی انتہا پسندانہ سوچ پر کاربند ہیں، جو نہ صرف افغان عوام بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر میں 3 ارب ڈالر سے زائد اضافہ، مجموعی حجم 21.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

دانت پیسنے کی عادت: یہ کیفیت کیوں جنم لیتی ہے، نقصانات کیا ہیں؟

‘لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ’ اختتام پذیر: معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی مقام کے لیے واضح لائحہ عمل پیش

شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد انہیں جلد بھلا دیا جائے گا، کنگ چارلس سے منسوب حیران کن گفتگو سامنے آگئی

9ویں جماعت کے خراب نتائج پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اساتذہ پر برہم، کارروائی کا فیصلہ

ویڈیو

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟