نٹ شیل گروپ کے زیرِ اہتمام 9ویں ‘لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ’ کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا جس کا موضوع ’دی نیکسٹ موو‘ تھا۔ اس کثیر الجہتی سمٹ میں وفاقی وزرا، عالمی اداروں کے نمائندوں، ممتاز معاشی ماہرین اور پاکستان کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی اور ملکی معیشت، ڈیجیٹل تبدیلی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر سیمینار، ماہرین کی انتہائی اہم تجاویز سامنے آگئیں
گروپ کے بانی و چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری محمد اظفر احسن نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور دنیا جاننا چاہتی ہے کہ پاکستان کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ انہوں نے آئندہ 25 سال کے لیے جامع اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان پائیدار معاشی ترقی کے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار، ترسیلاتِ زر اور آئی ٹی برآمدات میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے 3 ارب ڈالر کے بانڈ کے کامیاب اجرا کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد کی معلوماتی شرح پر ری فنانس فراہم کی جا رہی ہے تاکہ برآمدات پر مبنی معاشی نمو حاصل ہو۔
وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا ذکر کیا تاہم یہ بھی واضح کیا کہ نجی شعبے کی شمولیت اور مشاورت کے بغیر موثر معاشی پالیسی سازی ممکن نہیں۔
مزید پڑھیے: فل برائٹ امریکی اسکالرشپ، 85 پاکستانی طلبہ واشنگٹن روانگی کے لیے تیار، اسلام آباد میں الوداعی تقریب
وزیراعظم کے مشیر برائے اورنجکاری محمد علی نے پیداواری صلاحیت بڑھانے، ٹیکنالوجی کی تخلیق اور 2050 تک 39 کروڑ تک پہنچنے والی آبادی کے لیے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری جیسے اقدامات کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے معاشی ترقی کو عام شہری کی زندگی میں بہتری، تعلیم، صحت اور صاف پانی کی فراہمی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ فوری نوعیت کے معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ بنیادی انفراسٹرکچر پر توجہ دینا لازمی ہے۔
سابق نگران وزیراعظم سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی مسائل کی اصل وجہ گورننس کا نہ ہونا ہے جسے بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سمٹ کے 6 مختلف سیشنز میں جیو پولیٹکس، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، سرمایہ اور مالیات جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
تقریب میں جاز کے سی ای او عامر ابراہیم، یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک، آئی ایف سی کے سائمن اینڈریوز، اے سی سی اے کی لوسیا ریئل مارٹن اور دیگر عالمی و مقامی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
مزید پڑھیں: سرینڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں، بلاول بھٹو کا جنگ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب
تقریب کے اختتام پر تمام ممتاز مقررین کو سید بابر علی کی 100 سالہ زندگی سے متعلق لکھی گئی خصوصی کتاب پیش کی گئی جبکہ سمٹ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے معاشی استحکام کی منزل حاصل کرے گا۔













