وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر صحت نے نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ورلڈ بینک پروگرام کی مدت میں ایک سال توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ورلڈ بینک کی درخواست پر انٹر منسٹریل ہیلتھ اینڈ پاپولیشن کونسل کو فوری طور پر دوبارہ فعال کرنے اور اسی ہفتے بین الصوبائی وزارتی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی، تاکہ پالیسی سطح پر مربوط مشاورت کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا جواب، مصطفیٰ کمال نے اپنی بیٹی کو اینٹی سروائیکل کینسر ویکسین لگوا دی
مصطفیٰ کمال نے اسی ہفتے یونیورسل ہیلتھ کوریج سے متعلق اجلاس بلانے کا بھی اعلان کیا، تاکہ ملک بھر میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے دائرہ کار کو تیز رفتاری سے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے گلوبل فنانسنگ فیسیلٹی کے تحت خواتین، بچوں اور نوعمر افراد کی صحت و غذائیت کے حوالے سے فوکل پرسن کی نامزدگی کی ہدایت بھی دی۔
ورلڈ بینک وفد نے آئندہ 2 سے 3 ماہ میں ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کی، جس کا مقصد وفاقی وزیر کے آئندہ 2 سے 3 سالہ وژن کو اجاگر کرنا اور پاکستان کے شعبہ صحت میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت اور اسرائیلی جارحیت سے صحتِ عامہ کو خطرہ ہے، مصطفیٰ کمال کا عالمی فورم پر انتباہ
وفاقی وزیر صحت نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزارت کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وزارت صحت اور ورلڈ بینک کے درمیان قریبی رابطے اور معلومات کے تبادلے کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے نظام صحت کو بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا جائے گا۔












