امپیریئل کالج پر منفی پروپیگنڈا تحریک فساد کی کارروائی ہے، عظمیٰ بخاری

جمعرات 23 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر تحریک فساد کی جانب سے امپیریئل کالج کے خلاف منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، حالانکہ نوازشریف آئی ٹی سٹی میں امپیریئل کالج لندن کے کیمپس کے قیام پر باضابطہ پریس ریلیز جاری ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف آئی ٹی سٹی میں نووو کیئر ادارے اور امپیریئل کالج ہیلتھ کیئر ٹرسٹ کے اشتراک سے ایک جدید یونیورسٹی اور میڈیکل کالج قائم کیا جا رہا ہے، جہاں 300 بستروں پر مشتمل ہسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) جب بھی عوام کی بھلائی کے لیے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو پی ٹی آئی کو تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں انسانوں کے نہیں بلکہ جانوروں کے لیے بھی کوئی ہسپتال نہیں بنایا۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب حکومت اب 1000 بستروں پر مشتمل نوازشریف کینسر ہسپتال کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے جو صوبے بھر کے عوام کو بین الاقوامی معیار کی علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا غیر قانونی اسلحہ کے خلاف بھرپور ایکشن

ان کا کہنا تھا کہ نووو کیئر اور امپیریئل کالج ہیلتھ کیئر ٹرسٹ کے باہمی تعاون سے پنجاب میں جدید طبی تعلیم اور صحت کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جو پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

حکومت پنجاب اور نووو کیئر کی وضاحت

علاوہ ازیں پنجاب حکومت اور نووو کیئر کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (CBD) کے نالج سٹی، NSIT میں نوواکیر کے مجوزہ منصوبے کے حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات گردش کر رہی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔

نووو کیئر مارچ 2024 سے Imperial College Healthcare NHS Trust سے منسلک ہے اور یہ تعلق اس کے ’انٹرنیشنل افیلیئٹ نیٹ ورک‘ کے تحت ہے۔

اسی نیٹ ورک کے ذریعے ماہرینِ صحت کی بین الاقوامی ٹیمیں مختلف ممالک میں اعلیٰ معیار کے طبی ادارے قائم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ نووو کیئر اس عالمی نیٹ ورک میں شامل ہونے والی دوسری کمپنی تھی۔

نووو کیئر کا پہلا 250 بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال اسلام آباد میں زیرِ تعمیر ہے جو 50 فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے اور 2026 کی آخری سہ ماہی میں کھولنے کا منصوبہ ہے۔

اب نووو کیئر نے پاکستان بھر میں ایک جامع ہیلتھ نیٹ ورک قائم کرنے کے منصوبے کے تحت CBD NSIT لاہور میں اپنی دوسری تنصیبات کے لیے زمین حاصل کی ہے۔ یہاں ایک ’اکیڈمک میڈیکل سینٹر‘ قائم کیا جائے گا جو صحت، تعلیم، تحقیق اور اختراعات کو ایک ہی چھت تلے جمع کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ، انتہا پسندی اور ڈالا کلچر کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے، عظمیٰ بخاری

یہ منصوبہ پنجاب حکومت کے جاری ٹیکنالوجی و تعلیمی ویژن کے تحت عالمی معیار کا مرکز بنے گا۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ Imperial College Healthcare NHS Trust اور Imperial College London  دو علیحدہ ادارے ہیں۔

ٹرسٹ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے تحت لندن کے 5 بڑے اسپتالوں کا انتظام چلاتا ہے، جبکہ امپیریل کالج لندن ایک تعلیمی ادارہ ہے۔

اگرچہ دونوں ادارے مختلف منصوبوں میں تعاون کرتے ہیں، تاہم یونیورسٹی کا اس انٹرنیشنل افیلیئٹ نیٹ ورک یا پاکستان میں کسی منصوبے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ لاہور میں نووو کیئر کے منصوبے کے حوالے سے تمام تر عمل شفاف اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہے، اور اس کا مقصد صوبے میں عالمی معیار کی طبی سہولیات اور تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پولیس کا ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن، فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ملزم گرفتار، 42 مقدمات میں مطلوب نکلا

’آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی‘،صدر ٹرمپ کا ایران سے امن معاہدے میں بڑی پیشرفت کا دعویٰ

بہاولپور: کھیتوں میں بکریاں جانے پر خاتون پر تشدد، ملزمان نے گھر نذرِ آتش کردیا

پاک ایران امریکا سفارت کاری رنگ لے آئی، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اہم پیش رفت کی تصدیق کر دی

واشنگٹن لرز اٹھا: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والا مسلح شخص سیکرٹ سروس کی جوابی کارروائی میں ہلاک

ویڈیو

عید الاضحیٰ: پشاور میں باربی کیو کی تیاریوں کے منفرد انداز

لگژری فارم ہاؤس! جہاں کروڑوں روپے مالیت کے قربانی کے بیل رہتے ہیں

عیدالاضحیٰ کے موقع پر کون سے سیاحتی مقامات سیر و تفریح کے لیے بہترین ہیں؟

کالم / تجزیہ

بدرالدین بدر، معروف ادیبوں کا ایک فراموش کردہ دوست

ڈونلڈ ٹرمپ کی قربانی

نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟