بنگلہ دیش کے وزیر قانون محمد اسد الزماں نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ حکومت سابق دور میں قائم کیے گئے سیاسی نوعیت کے مقدمات کا جائزہ لے رہی ہے اور مناسب کیسز کو واپس لینے کا عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی عدالتی نظام میں اصلاحات، ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ اور زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جمعرات کے روز جاتیہ سنگسد (پارلیمان) میں ایک تحریری سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ حکومت نے اس معاملے پر مؤثر اقدامات کیے ہیں اور ایسے مقدمات کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سابق عبوری انتظام کے تحت اس جائزہ عمل کے دوران کسی بھی قتل کے مقدمے کو واپس نہیں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش: مزید 1,202سیاسی مقدمات واپس لینے کی منظوری
وزیر قانون کے مطابق سیاسی نوعیت کے مقدمات کی چھان بین جاری ہے اور جہاں مناسب سمجھا جا رہا ہے، وہاں ان مقدمات کی واپسی کا عمل بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پارلیمانی اجلاس کے دوران وزیر نے بنگلہ دیش کے عدالتی نظام سے متعلق تفصیلات بھی پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر 2025 تک زیریں عدالتوں میں 40 لاکھ 40 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا تھے۔
زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت نے 871 عدالتیں قائم کی ہیں اور 232 نئی عدالتی آسامیوں کی منظوری دی ہے، جبکہ مزید 304 ججوں کی تقرری کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ 150 نئے سول ججز کی بھرتی بھی زیر عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتی اصلاحات کے تحت سمن کی ترسیل اب ایس ایم ایس اور وائس کال کے ذریعے ممکن بنائی جا رہی ہے، جبکہ حلف نامے اور تحریری جوابات الیکٹرانک طریقے سے جمع کرانے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ مزید برآں، عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں سیاسی بنیادوں پر قائم 23 ہزار سے زائد مقدمات واپس لینے کا فیصلہ
وزیر قانون نے واضح کیا کہ ججوں کی تقرری اور تبادلے دیانت، صلاحیت اور پیشہ ورانہ طرز عمل کی بنیاد پر کیے جائیں گے، جبکہ اس حوالے سے حتمی اختیار سپریم کورٹ آف بنگلہ دیش کے پاس ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانوی اور پاکستانی ادوار سے ورثے میں ملنے والے پرانے قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور انہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کیا جائے گا۔
مزید برآں، حکومت نے ڈیجیٹل انصاف کے اقدامات کو بھی وسعت دی ہے، جن میں ای فیملی کورٹس شامل ہیں جو اس وقت 2 اضلاع میں فعال ہیں، جبکہ انہیں ملک بھر میں پھیلانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔














