بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت پر جنگ بندی کے لیے اتفاق رائے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہاکہ پاکستان کی درخواست پر آپریشن ’پراجیکٹ فریڈم‘ کو روک رہے ہیں، اور اِس سے پہلے ایران امریکا جنگ بندی اور جنگ بندی میں توسیع بھی پاکستان کے کہنے پر کی گئی۔
مزید پڑھیں: خطے میں امن کے لیے کردار، وزیراعظم کی فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی کاوشوں کی تعریف
یہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر بڑی دلیلیں ہیں لیکن اس سفر کا آغاز 10 مئی 2025 سے ہوا جب پاکستان کی جانب سے بھارت پر تابڑ توڑ حملوں نے بھارت کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کے بعد بھارت دُنیا میں تنہا ہوتا چلا گیا جبکہ پاکستان کی جانب تمام ممالک راغب ہونے لگے۔
پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی
مئی 2025 کے بعد سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کئی اہم امتحانات سے گزری ہے۔ ایک طرف اسے افغانستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحدی سلامتی کے مسائل کا سامنا رہا، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے پاکستان کو ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھنے پر مجبور کیا۔
اسی دوران عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بھی شدت اختیار کرتا رہا جس نے پاکستان کے لیے چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نہایت حساس اور فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔
مئی 2025 سے مئی 2026 تک کا ایک سال پاکستان کے لیے سفارتی لحاظ سے اہم اور کامیابیوں سے بھرپور سال رہا لیکن مئی 2025 سے پہلے اور اس کے بعد پاکستان کی سفارتی پوزیشن میں بہت اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
مئی 2025 سے پہلے پاکستان کو سفارتی لحاظ سے کئی چیلنجز کا سامنا تھا جو اس کے بعد یکسر بدل گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں اور تعریفیں ہوں یا پاک سعودی دفاعی معاہدہ، چین کے ساتھ تعلقات میں قربت ہو یا پھر ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کی گونج ہر طرف سبز ہلالی پرچم بلند رہا۔
اس کے علاوہ ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستان کی بے پناہ تحسین، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت ہو یا غزہ امن معاہدے میں اہم کردار، جنرل عاصم منیر کو سعودی اعلیٰ اعزاز کا ملنا یا بنگلہ دیش میں پاکستان کی خصوصی اہمیت، پاکستان کو یہ ساری سفارتی کامیابیاں مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ملیں۔
مئی 2025 سے پہلے اور بعد کا پاکستان
پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو ہم دو ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں، ایک مئی 2025 سے پہلے دوسرا مئی 2025 کے بعد۔ مئی 2025 کی جنگ کے بعد پاکستان کو ملنے والی ایک اہم کا کامیابی اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے دسمبر 2025 میں جاری ہونے والی رپورٹ جس میں بھارت کو جارح اور بھارتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ جو ایک لحاظ سے پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے کیونکہ اس کے ذریعے پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی پذیرائی اور تائید ملی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت کے فوجی ردِعمل اور نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے سے بظاہر کام اور روزگار کے حق، مناسب معیارِ زندگی کے حق، جس میں پانی اور خوراک کے حقوق شامل ہیں، کے علاوہ صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول اور ترقی کے حق کی خلاف ورزی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
بھارت کی سفارتی تنہائی
مئی میں ہونے والی پاک بھارت فوجی کشیدگی کے وقت اور بعد میں بھارت کی بے پناہ کوششوں کے باوجود دنیا نے بھارتی مؤقف کو تسلیم نہیں کیا اور بھارتی مؤقف کو عالمی پذیرائی نہ مل سکی جو کہ پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی کی صورت ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی عالمی سفارتی کوششیں تیز، امریکا ایران جنگ بندی اور علاقائی امن میں اہم پیشرفت، دفتر خارجہ
اس وقت پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کی میزبانی بھی بھارت کے لیے ایک صدمے کی صورت ہے۔
مئی 2025 کے بعد کن ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے؟
مئی 2025 کے بعد پاکستان کے چین، امریکا، سعودی عرب، ایران، ترکیہ، قطر، مصر اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بہت بہتری آئی اور پاکستان ایک قابلِ بھروسہ اور مضبوط ملک بن کر ابھرا۔












