امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق واشنگٹن کی تجویز پر اتفاق نہ ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز کھولنے کا منصوبہ، امریکا خود الجھن میں مبتلا
برینٹ خام تیل کی قیمت 3.18 ڈالر اضافے کے بعد 104.47 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 98.51 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے امن مذاکرات سے متعلق ردعمل کو ناقابل قبول قرار دیا، جس کے بعد فوری جنگ بندی کی امیدیں معدوم ہو گئیں۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ بدھ کو چین پہنچیں گے جہاں وہ چینی صدر سے ایران سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کریں گے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اب توجہ ٹرمپ کے دورۂ چین پر مرکوز ہے، کیونکہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے حل میں کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب سعودی آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے کہا ہے کہ گزشتہ 2 ماہ میں دنیا قریباً ایک ارب بیرل تیل سے محروم ہو چکی ہے اور اگر سپلائی بحال بھی ہو جائے تو توانائی کی عالمی منڈی کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کشیدگی: قطر سے ترسیل متاثر، پاکستان کا اسپاٹ ایل این جی خریدنے کا فیصلہ
شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل سے بھرے مزید 2 ٹینکر آبنائے ہرمز سے اپنے ٹریکر بند کر کے گزرے تاکہ ممکنہ ایرانی حملوں سے بچا جا سکے، جس سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے لیے بڑھتے خدشات واضح ہو گئے ہیں۔














