لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی اور پارٹی کے مزید 23 رہنماؤں کو پولیس اہلکاروں پر حملوں کے کیس میں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے مفرور رہنماؤں کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے ہیں، کیونکہ پولیس کا موقف ہے کہ ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعد رضوی اور ان کے بھائی کے بہت قریب ہیں، جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے: عظمیٰ بخاری
بادامی باغ پولیس نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ دہشتگردی، کارکنوں کو تشدد پر اکسانے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کے الزامات میں درج ایف آئی آر میں مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جائے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی طلبی کے اشتہارات پہلے ہی شائع کیے جاچکے ہیں، لیکن وہ جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور گرفتاری کے خوف سے فرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعد رضوی کے گھر سے کروڑوں کی نقدی اور زیورات برآمد، ایسے لوگ یہ سب گھر میں کیوں رکھتے ہیں؟
عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیے گئے دیگر رہنماؤں میں انس رضوی، میاں جمیل احمد شرقپوری، میاں جلیل احمد شرقپوری، علامہ فاروق الحسن، مفتی عابد رضا قادری، علامہ عثمان مظفر، ڈاکٹر شفیق امینی، حسن بٹ، عثمان قادری اور صدام حسین سمیت دیگر شامل ہیں۔
عدالتی حکم کے بعد اب ان تمام افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی لائے جانے کا امکان ہے۔














