پاکستان نے صنعتی شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ٹرک اور بس ریڈیل (ٹی بی آر) ٹائروں کی برآمدات میں دنیا کے ٹاپ 10 برآمد کنندگان میں جگہ بنا لی۔
یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا رجحان، 4 کروڑ 32 لاکھ ڈالر کا اضافہ
اس کے بعد امریکا اور برازیل سمیت بڑی منڈیوں میں پاکستانی ٹائروں کی مانگ میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی ٹائر برآمدات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ امریکا اور برازیل پاکستانی ساختہ ٹائروں کی بڑی برآمدی منڈیاں بن کر ابھرے ہیں۔
اس پیشرفت میں نجی کمپنی سروس لانگ مارچ کا اہم کردار ہے جس نے سنہ 2022 میں آپریشنز کے آغاز کے بعد عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی تیزی سے بڑھائی ہے۔ کمپنی امریکا، برازیل، جنوبی افریقہ اور مصر سمیت کئی ممالک کو برآمدات کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی جدید چینی ٹیکنالوجی اور کم لاگت پیداواری ماڈل کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس کی مجموعی ٹرک اور بس ریڈیل پیداوار کا تقریباً 40 فیصد برآمد کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، آج مزید کتنا مہنگا ہوا؟
پاکستان میں مقامی ٹائر مارکیٹ بھی مسلسل توسیع کی طرف گامزن ہے جہاں ٹرک اور بس ٹائروں کی سالانہ طلب تقریباً 17 لاکھ یونٹس اور مسافر گاڑیوں کے ٹائروں کی طلب تقریباً 70 لاکھ یونٹس تک پہنچ چکی ہے۔
ماضی میں اس طلب کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کیا جاتا تھا، تاہم اب مقامی پیداوار میں اضافہ درآمدی انحصار کم کرنے اور قیمتی زرمبادلہ بچانے میں مدد دے رہا ہے۔
کمپنی اس وقت سالانہ تقریباً 16 لاکھ ٹی بی آر ٹائر تیار کر رہی ہے اور منصوبے کے مطابق یہ پیداوار جولائی 2026 تک 20 لاکھ یونٹس اور جون 2027 تک 22 لاکھ یونٹس تک بڑھائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: فی کس آمدنی میں اضافہ، پاکستان دنیا کی 42ویں بڑی معیشت بن گیا
ماہرین کے مطابق برآمدات میں اضافہ، پیداواری صلاحیت میں توسیع اور مقامی صنعت کی مضبوطی پاکستان کے ٹائر سیکٹر کو تیزی سے ایک اہم زرمبادلہ کمانے والی صنعت میں تبدیل کر رہی ہے۔













