امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا دو روزہ دورہ اس وقت ختم ہو گیا جب وہ کسی بڑی اور جامع تجارتی ڈیل کے اعلان کے بغیر بیجنگ سے امریکا روانہ ہو گئے۔ دورے کے دوران اگرچہ اہم ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے، تاہم مبصرین کے مطابق کوئی بڑا اقتصادی معاہدہ سامنے نہیں آ سکا، جسے امریکی اور عالمی میڈیا نے خاص توجہ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سی آئی اے چیف کا غیر معمولی دورۂ کیوبا، ٹرمپ کا اہم پیغام ہوانا حکومت تک پہنچا دیا گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے بیجنگ سے روانہ ہو گئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اپنے دورے کے دوران انہوں نے چین کے صدر شی جنگ پنگ سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ وفود کی سطح پر بھی مختلف ادوار میں مذاکرات ہوئے جنہیں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس دورے کا سب سے نمایاں پہلو یہ رہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان کسی بڑی تجارتی ڈیل یا جامع معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور رابطوں میں بہتری کے باوجود عملی سطح پر بڑے معاشی فیصلے سامنے نہیں آئے۔
US President Trump boards Air Force One at Beijing airport, departing China after his state visit. pic.twitter.com/amOJNPDtZ8
— Shanghai Daily (@shanghaidaily) May 15, 2026
دوسری جانب امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رہنا چاہیے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ بعض شعبوں میں “شاندار تجارتی معاہدے” ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ان معاہدوں کی تفصیلات واضح نہیں کیں۔ ادھر چینی حکام کی جانب سے بھی ملاقاتوں کو مثبت قرار دیا گیا ہے لیکن کسی بڑے بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا گیا۔
President #DonaldTrump left #Beijing for the #US after two days of high-stakes talks with #XiJinping. #AirForceOne departed following a tarmac ceremony where Trump fist-pumped as attendees waved #US and Chinese flags.#Chinahttps://t.co/UPqKSkrj5E
— CNN Asia Pacific PR (@cnnasiapr) May 15, 2026
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ اگرچہ سفارتی لحاظ سے اہم رہا، لیکن عملی نتائج کے اعتبار سے محدود پیش رفت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود پیچیدگیاں ایک بار پھر سامنے آ گئی ہیں۔













