برطانیہ اور تھائی لینڈ کے سائنسدانوں نے شمال مشرقی تھائی لینڈ میں کھدائی کے دوران دریافت ہونے والے فوسلز سے ایک نئے دیوہیکل، لمبی گردن والے ڈائناسور کی نئی نسل کی شناخت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراکش سے 165 ملین سال قدیم دفاعی ڈھانچے سے لیس ‘بکتر بند’ ڈائناسور دریافت
رائٹرز کے مطابق اس کو ناگاٹائٹن چھائی یافومنسس کا نام دیا گیا ہے اور یہ باضابطہ طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈائناسور ہے۔
ناگاٹائٹن لمبی گردن والے سبزی خور ڈائناسور یعنی ساؤروپوڈ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا اندازاً وزن 27 ٹن تھا جو تقریباً 9 بالغ ایشیائی ہاتھیوں کے برابر ہے اور اس کی لمبائی 27 میٹر (88 فٹ) تھی جو اسے ڈیپلوڈوکس سے لمبا اور تقریباً بھاری بناتی ہے۔
یہ ڈائناسور ابتدائی کریٹیشس دور میں زندہ تھا، تقریباً 100 سے 120 ملین سال قبل۔ اس تحقیق کے سربراہ، تھائی ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھیتیووٹ سیٹھاپانچساکل (یونیورسٹی کالج لندن) نے اسے ’آخری ٹائیٹن‘ کا لقب دیا کیونکہ اس کے فوسلز تھائی لینڈ کی سب سے کم عمر ڈائناسور والی چٹانوں میں محفوظ پائے گئے اس سے پہلے کہ یہ علاقہ ایک کم گہری سمندر میں تبدیل ہو جاتا۔
ڈائناسور کا نام اس کی جڑوں اور کہانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، ناگا جنوب مشرقی ایشیا کے اساطیری سانپ کی نمائندگی کرتا ہے اور ٹائیٹن یونانی دیوتاؤں کی دیوہیکل طاقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: 55 کروڑ سال پرانا نایاب فوسل دریافت، ابتدائی حیاتیاتی ارتقا کا بڑا راز بے نقاب
چھائی یافومنسس اس صوبے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ہڈیوں کو تقریباً ایک دہائی قبل ایک تالاب کے قریب دریافت کیا گیا تھا۔
ناگاٹائٹن تھائی لینڈ میں باضابطہ طور پر نامزد ہونے والی 14 ویں ڈائناسور نسل ہے۔
سائنٹیفک رپورٹس جرنل میں شائع ہونے والے اس مطالعے کے مطابق تھائی لینڈ میں کم عمر چٹانوں میں ڈائناسور کے فوسلز کم ملنے کا امکان ہے کیونکہ اس وقت علاقہ پہلے ہی کم گہری سمندر میں بدل چکا تھا۔
تھیتیووٹ نے کہا کہ یہ شاید جنوب مشرقی ایشیا میں آخری یا حالیہ بڑے ساؤروپوڈ ڈائناسور ہوں جو ہم دریافت کریں گے۔
ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سیتا مانٹیکون کے مطابق تھائی لینڈ میں فوسلز کی تنوع بہت زیادہ ہے اور یہ خطہ ایشیا میں ڈائناسور فوسلز کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا مرغیاں کبھی ڈائنا سور تھیں؟
ناگاٹائٹن ایک ایسے دور میں زمین پر گھوم رہا تھا جب عالمی حرارت میں شدت اور فضائی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں نمایاں اضافہ ہو رہا تھا۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر پال اپ چرچ نے کہا کہ اگرچہ ساؤروپوڈ خاندان اس دور میں بہت بڑا ہوا اور یہ اتنا بڑا ہونا ارتقائی طور پر غیر معمولی ہے کیونکہ بڑے جانور جسمانی حرارت کو زیادہ رکھتے ہیں اور گرم ماحول میں خود کو ٹھنڈا کرنا مشکل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نصف ملین ڈالر مالیت کا ڈائناسور لیدر بیگ توجہ کا مرکز
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے کہ زیادہ درجہ حرارت نے پودوں کی غذائی اہمیت پر اثر ڈالا ہو جو بڑے سبزی خور ساؤروپوڈز کے لیے ضروری تھی۔














