جمعیت علمائے اسلام آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان پر گوراہ کے مقام پر مبینہ قاتلانہ حملے کا واقعہ پیش آیا تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ان کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: مضبوط اور مستحکم پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور
مولانا سعید یوسف انتخابی مہم کے سلسلے میں آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے ضلعی ہیڈکوارٹرپلندری میں واقع دیوان گوراہ میں ایک پروگرام سے خطاب کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان نے ان کے قافلے کا راستہ روک لیا۔ اس دوران شدید نعرے بازی کی گئی اور پروگرام منعقد نہ ہونے دیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق مشتعل افراد کی جانب سے مولانا کے قافلے پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم مولانا سعید یوسف اس حملے میں محفوظ رہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: نواز شریف انتخابی مہم کے لیے خود میدان میں اتریں گے
مولانا سعید یوسف نے پولیس انتظامیہ کو 2 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث شرپسند عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جائے بصورت دیگر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے۔
ایکشن کمیٹی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس نے ریاست کے اندر ریاست قائم کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی یہ روش کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے اگر ایکشن کمیٹی کو موجودہ نظام قبول نہیں تو الیکشن میں حصہ لے اگر عوام مینڈیٹ دیتے ہیں تو سسٹم کو ضرور تبدیل کریں مگر ریاست کے اندر افراتفری پھیلانا کسی طور مناسب نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جمعیت علما اسلام ف کا حال ہی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد ہوا ہے اور مولانا سعید یوسف خان آئندہ انتخابات میں پلندری سے متفقہ امیدوار ہوں گے۔














