اسحاق ڈار سے سعودی سفیر کی ملاقات، پاک سعودی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات میں پاک سعودی برادرانہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات

ملاقات میں حالیہ علاقائی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر سعودی سفیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کے فیصلے پر بیلجیم برہم، امریکی فٹبالر بالوگن کی معطلی ختم کرنے پر شدید احتجاج

متحدہ عرب امارات میں مہنگی قیمت کے باوجود پاکستانی آم کی مانگ میں مسلسل اضافہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیرمعمولی سرگرمیاں، ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

10 کھلاڑیوں پر مشتمل انگلینڈ نے میزبان میکسیکو کو 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی

مقبوضہ کشمیر: بی جے پی کے دباؤ پر لائبریری سے 2 کتابیں اٹھا لی گئیں، 8 افسران معطل

ویڈیو

لاہور کا مٹکا سوڈا، یہ کیسا مشروب ہے؟

اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان سرمایہ کاروں کی دلچسپی، نئے اکاؤنٹس کھلنے کی شرح میں 50 فیصد اضافہ

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟