ایمیزون کا کوئی مضبوط مغربی حریف کیوں نہیں؟

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایمیزون آج دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی بن چکی ہے جو آن لائن خریداری، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اسٹریمنگ اور ریٹیل جیسے متعدد شعبوں میں سرگرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمیزون کی اسٹارلنک کو ٹکر دینے کی تیاری، سیٹلائٹ کمپنی خریدنے کا اعلان

کمپنی نے حالیہ برسوں میں امریکی ریٹیل کمپنی والمارٹ کو بھی سالانہ فروخت کے لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کے بعد یہ دنیا کی سب سے بڑی ریونیو رکھنے والی کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے۔

ای کامرس میں غلبہ

ایمیزون امریکا میں تقریباً 40.5 فیصد آن لائن ریٹیل سیلز پر قابض ہے جبکہ اس کا قریبی حریف والمارٹ تقریباً 9.2 فیصد حصے کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ دیگر پلیٹ فارمز جیسے ای بے کا حصہ تقریباً 3 فیصد کے قریب ہے۔

برطانیہ میں بھی ایمیزون کا آن لائن ریٹیل میں حصہ تقریباً 30 فیصد بتایا جاتا ہے۔

ممکنہ حریف

اگرچہ ایمیزون مکمل طور پر مقابلے سے خالی نہیں تاہم اس کے مختلف شعبوں میں کئی کمپنیز موجود ہیں۔ ٹیسکو برطانیہ میں آن لائن گروسری میں نمایاں ہے، زالینڈو جرمنی میں آن لائن فیشن مارکیٹ میں بڑا نام ہے، ٹیمو اور شین کم قیمت مصنوعات میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور ای بے سیکنڈ ہینڈ اور نیلامی کی مارکیٹ میں فعال ہے۔

کامیابی کے اہم عوامل

ماہرین کے مطابق ایمازون کی برتری کی چند بڑی وجوہات ہیں۔

ابتدائی برتری (فرسٹ موور ایڈوانٹیج): ایمیزون نے انٹرنیٹ پر ای کامرس کے ابتدائی دور میں ہی مارکیٹ میں قدم جما لیا۔

جارحانہ قیمتوں کی حکمت عملی: کمپنی نے طویل عرصے تک کم منافع یا نقصان پر بھی مصنوعات فروخت کر کے مارکیٹ شیئر بڑھایا۔

ایمیزون ویب سروسز (اے ڈبلیو ایس): ایمیزون ویب سروسز کمپنی کا سب سے بڑا منافع بخش حصہ ہے جو اس کے ریٹیل کاروبار کو مالی سپورٹ فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص کی تنخواہ ایک عام مزدور سے بھی کم، ایمیزون کے بانی سالانہ کتنا کماتے ہیں؟

ایمیزون پرائم اور نیٹ ورک ایفیکٹـ: ایمیزون پرائم نے تیز ڈیلیوری اور اضافی سہولیات دے کر صارفین کو پلیٹ فارم سے جوڑے رکھا جس سے نیٹ ورک ایفیکٹ پیدا ہوا۔

ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کا استعمال:  الگورتھمز، آٹومیشن اور صارفین کے ڈیٹا نے کمپنی کو بڑے پیمانے پر اسکیل کرنے میں مدد دی۔

قانونی پہلو

امریکا میں ایف ٹی سی اور ریاست کیلیفورنیا نے ایمیزون کے خلاف اینٹی ٹرسٹ کیسز دائر کیے ہیں جن میں الزام ہے کہ کمپنی مسابقت کو محدود کرنے کے لیے غیر منصفانہ طریقے استعمال کرتی ہے۔ ایمیزون ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اینٹی ٹرسٹ کیسز ایسے قانونی مقدمات ہوتے ہیں جو کسی بڑی کمپنی کے خلاف اس وقت کیے جاتے ہیں جب یہ خدشہ ہو کہ وہ مارکیٹ میں اپنی غیر معمولی طاقت کا غلط یا غیر منصفانہ استعمال کر رہی ہے اور مقابلے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ایمیزون میں ایک بار پھر عالمی سطح پر ملازمتوں میں کٹوتی، بے احتیاطی نے پول کھول دیا

مثال کے طور پر اگر کوئی کمپنی اپنے پلیٹ فارم پر چھوٹے کاروباروں کو آگے بڑھنے سے روکے، قیمتوں یا فروخت کے مواقع کو اپنے فائدے کے لیے کنٹرول کرے یا صارفین کو اسی کے پلیٹ فارم تک محدود کر دے تو حکومت اس کے خلاف اینٹی ٹرسٹ قوانین کے تحت کارروائی کر سکتی ہے تاکہ مارکیٹ میں منصفانہ مقابلہ برقرار رہے اور صارفین کو بہتر انتخاب اور مناسب قیمتیں مل سکیں۔

مستقبل کا امکان

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ای کامرس کا مقابلہ روایتی کمپنیوں سے زیادہ ممکنہ طور پر اے آئی پر مبنی شاپنگ سسٹمز سے ہو سکتا ہے جہاں صارفین براہ راست چیٹ انٹرفیس کے ذریعے خریداری کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp