امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی توسیع پر ابتدائی اتفاق؟

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع اور مستقل امن مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت  طے پا گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کی حتمی منظوری اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درکار ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ کئی ہفتوں سے تعطل کا شکار سفارت کاری میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری، معاہدہ ابھی حتمی نہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

تاہم مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ 60 روزہ توسیع مذاکرات کے لیے حتمی ڈیڈ لائن ہوگی یا نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

جمعرات کو بھی دونوں ممالک کے درمیان محدود نوعیت کے حملوں کا تبادلہ ہوا۔

امریکی اخبار ایکسیوس نے سب سے پہلے اس ابتدائی معاہدے کی خبر دی جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی الجزیرہ سے گفتگو میں اس رپورٹ کی تصدیق کی۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو “غیر محدود” بنایا جائے گا اور امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے، اس لیے اس کا انتظام دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:  پاکستان کی امن کوششیں مزید تیز، اسحاق ڈار کا اہم دورۂ واشنگٹن، کل مارکو روبیو سے ملاقات ہوگی

دوسری جانب امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول یا جہازوں سے فیس وصول کرنے کے کسی بھی نظام کو مسترد کر دیا ہے۔

قبل ازیں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عمان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے میں تعاون کیا تو اس پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ صدر ٹرمپ کی شرائط کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی 3 بنیادی شرائط واضح کر چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنا، انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام کا

خاتمہ شامل ہے۔

دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے مذاکرات سے قریبی ذریعے کے حوالے سے امریکی دعوؤں کی تردید کی ہے۔

  مذکورہ دریعے کا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ واقعی حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ایران اس بارے میں پاکستانی ثالث اور اپنے عوام کو آگاہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں پیشرفت کی خبروں پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ بھی شامل ہے۔

تاہم تہران متعدد بار پہلے بھی یہ مؤقف دہرا چکا ہے، ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کر چکے تھے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی جمعرات کو کہا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ ان کے بقول ایران ذلت آمیز سفارت کاری قبول نہیں کرے گا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مجوزہ معاہدہ آبنائے ہرمز کے تنازع کو وقتی طور پر حل کر سکتا ہے، تاہم امریکی پابندیوں، ایران کے یورینیم ذخائر اور جوہری افزودگی کے حق جیسے معاملات اب

بھی حل طلب ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی کے تحت اسے اندرون ملک یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ صدر ٹرمپ ایران کے مکمل جوہری پروگرام کے خاتمے پر

زور دے رہے ہیں۔

امریکا ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام پر بھی پابندیاں چاہتا ہے، لیکن تہران نے اپنے دفاعی معاملات پر مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا، چین کی جانب سے حمایت کا اعادہ

ادھر لبنان میں جاری جنگ بھی ایک بڑا تنازع بنی ہوئی ہے، جہاں اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں حملے تیز کرتے ہوئے درجنوں افراد کو ہلاک کیا اور جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں انخلا کے احکامات

جاری کیے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

اسرائیل نے جمعرات کو 3 ہفتوں بعد پہلی بار بیروت پر بمباری کی، جو اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد لبنانی دارالحکومت پر دوسرا حملہ تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم