امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع اور مستقل امن مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت طے پا گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کی حتمی منظوری اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درکار ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ کئی ہفتوں سے تعطل کا شکار سفارت کاری میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری، معاہدہ ابھی حتمی نہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
تاہم مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ 60 روزہ توسیع مذاکرات کے لیے حتمی ڈیڈ لائن ہوگی یا نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
جمعرات کو بھی دونوں ممالک کے درمیان محدود نوعیت کے حملوں کا تبادلہ ہوا۔
US and Iranian negotiators have reached a deal for a 60-day ceasefire extension that would allow them time to negotiate a full end to the war on the Islamic Republic, but the deal must be approved by US President Donald Trumphttps://t.co/ycVTrughbo
— Middle East Eye (@MiddleEastEye) May 28, 2026
امریکی اخبار ایکسیوس نے سب سے پہلے اس ابتدائی معاہدے کی خبر دی جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی الجزیرہ سے گفتگو میں اس رپورٹ کی تصدیق کی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو “غیر محدود” بنایا جائے گا اور امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے، اس لیے اس کا انتظام دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی امن کوششیں مزید تیز، اسحاق ڈار کا اہم دورۂ واشنگٹن، کل مارکو روبیو سے ملاقات ہوگی
دوسری جانب امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول یا جہازوں سے فیس وصول کرنے کے کسی بھی نظام کو مسترد کر دیا ہے۔
قبل ازیں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عمان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے میں تعاون کیا تو اس پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ صدر ٹرمپ کی شرائط کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی 3 بنیادی شرائط واضح کر چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو کھولنا، انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام کا
خاتمہ شامل ہے۔
دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے مذاکرات سے قریبی ذریعے کے حوالے سے امریکی دعوؤں کی تردید کی ہے۔
مذکورہ دریعے کا کہنا تھا کہ اگر معاہدہ واقعی حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ایران اس بارے میں پاکستانی ثالث اور اپنے عوام کو آگاہ کرے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں پیشرفت کی خبروں پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ بھی شامل ہے۔
تاہم تہران متعدد بار پہلے بھی یہ مؤقف دہرا چکا ہے، ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کر چکے تھے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی جمعرات کو کہا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ ان کے بقول ایران ذلت آمیز سفارت کاری قبول نہیں کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مجوزہ معاہدہ آبنائے ہرمز کے تنازع کو وقتی طور پر حل کر سکتا ہے، تاہم امریکی پابندیوں، ایران کے یورینیم ذخائر اور جوہری افزودگی کے حق جیسے معاملات اب
بھی حل طلب ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی کے تحت اسے اندرون ملک یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ صدر ٹرمپ ایران کے مکمل جوہری پروگرام کے خاتمے پر
زور دے رہے ہیں۔
امریکا ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام پر بھی پابندیاں چاہتا ہے، لیکن تہران نے اپنے دفاعی معاملات پر مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا، چین کی جانب سے حمایت کا اعادہ
ادھر لبنان میں جاری جنگ بھی ایک بڑا تنازع بنی ہوئی ہے، جہاں اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں حملے تیز کرتے ہوئے درجنوں افراد کو ہلاک کیا اور جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں انخلا کے احکامات
جاری کیے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیل نے جمعرات کو 3 ہفتوں بعد پہلی بار بیروت پر بمباری کی، جو اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد لبنانی دارالحکومت پر دوسرا حملہ تھا۔













