بھارتی حکومت ایک بار پھر پاکستان مخالف بیانیہ گھڑنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہے جہاں ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے بھارت میں رہنے والا ہر شخص پاکستان یا آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہو اور انہی کے اشاروں پر کام کر رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں ہے، لاشیں استعمال کر کے ڈراما رچانے کی کوشش کر سکتا ہے، خواجہ آصف
مبصرین کے مطابق یہ تمام کارروائیاں پاکستان کو بدنام کرنے اور عالمی سطح پر اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی سطح پر بھارت کو جس سفارتی سبکی اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد نئی دہلی ایک بار پھر ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعے کسی ممکنہ فالس فلیگ آپریشن یا داخلی کارروائی کا الزام پاکستان پر عائد کیا جا سکے۔
؎مزید پڑھیے: اسلام آباد کی سفارتی پیشقدمی، پاکستان کو تنہا کرنیکی بھارتی کوششیں الٹی پڑ گئیں
اسی سلسلے میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ہفتے کے روز 9 افراد کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ہدایات پر کام کر رہے تھے اور ممبئی انڈرورلڈ سے بھی ان کے روابط تھے۔
دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر انیل شکلا کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے 4 پاکستانی ساختہ دستی بم، 2 گلاک پستول اور 25 گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے جس کے مبینہ روابط داؤد ابراہیم سے تھے اور وہ دہلی اور ممبئی سمیت بڑے شہروں میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: دلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ: بھارت کے نئے آبی منصوبے سے سندھ طاس تنازع مزید شدت اختیار کر گیا
پولیس کے مطابق ملزمان کی حکمت عملی مقامی نوجوانوں کو بڑی رقوم کا لالچ دے کر دہشتگردی کے لیے بھرتی کرنا تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ممبئی کے لیے 2 اور دہلی کے لیے 3 نوجوانوں کو بھرتی کیا اور حملوں کی تکمیل کے بعد لاکھوں روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے اس نوعیت کے دعوے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان کے شواہد عالمی سطح پر قابل قبول ثابت نہیں ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت بار بار ایسے الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنی داخلی ناکامیوں اور سیکیورٹی کمزوریوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ بھارتی حکومت ہر واقعے کو پاکستان سے جوڑ کر ایک مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دینا چاہتی ہے حالانکہ حقیقت میں یہ الزامات غیر مصدقہ اور یکطرفہ دعوؤں پر مبنی ہوتے ہیں۔













