خیبر پختونخوا حکومت مالی سال 27-2026 کے لیے 2 ہزار 170 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ آج صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس کی صوبائی کابینہ نے منظوری دیدی ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق کابینہ سے حتمی منظوری کے بعد بجٹ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اس مقصد کے لیے اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے طلب کیا گیا تھا، تاہم تاحال اجلاس شروع نہیں ہو سکا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بجٹ میں کسی قسم کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل نہیں، جبکہ بعض ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 3 مہینے یا پورے سال کے لیے؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو شدید مشکلات
حکام کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ایک ہزار 645 ارب روپے سے زائد جاری اخراجات کے لیے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے اور کنوینس الاؤنس میں اضافے کی تجویز دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے پراپرٹی ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کا بجٹ 19 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ، 3 ماہ کا یا پورے سال کا ہوگا؟
ذرائع نے بتایا کہ بجٹ میں سرکاری اسکولوں کو ماڈل اسکولوں میں اپ گریڈ کرنے کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ نوجوانوں کو روزگار کے لیے بلاسود قرضے فراہم کرنے اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکیم شروع کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
‘عمران خان سے ملاقات ہوئی تو بجٹ میں تبدیلی کر سکتے ہیں’
پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک رہنما نے بتایا کہ آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث 3 ماہ کے لیے عبوری بجٹ پیش نہیں کیا جا سکا، اس لیے پورے مالی سال کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر بجٹ اجلاس کے دوران یا بعد میں کسی بھی مرحلے پر عمران خان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کوئی تجاویز دیں تو ان کے مطابق بجٹ میں تبدیلی کی جائے گی اور ان تجاویز کو شامل کیا جائے گا۔
رہنما کے مطابق بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
ناراض اراکین کا عمران خان کے حق میں آواز اٹھانے کا فیصلہ
پی ٹی آئی کے ناراض اراکین نے بجٹ کے حوالے سے علیحدہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کے ایک ناراض رکن نے بتایا کہ وہ بجٹ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ہی فیصلہ کریں گے کہ بجٹ کے حق میں ووٹ دینا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ عمران خان کی ترجیحات کے مطابق ہوا تو وہ اس کی حمایت کریں گے، بصورتِ دیگر اپنا آئندہ لائحۂ عمل طے کریں گے۔
ناراض اراکین نے آج ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔














