مہنگی تزئین و آرائش کے باوجود کنگ چارلس بکنگھم پیلس میں کیوں نہیں رہیں گے؟

جمعہ 26 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم نے فیصلہ کیا ہے کہ بکنگھم پیلس کی 10 سالہ طویل اور مہنگی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اور ملکہ کمیلا اس تاریخی محل میں مستقل قیام نہیں کریں گے، تاہم محل شاہی تقریبات اور دفتری سرگرمیوں کا مرکز برقرار رہے گا۔

عرب نیوز کے مطابق کنگ چارلس سوم نے اعلان کیا ہے کہ 36 کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے جاری بکنگھم پیلس کی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اپنی رہائش قریبی شاہی عمارت کلیرنس ہاؤس میں رکھیں گے۔

شاہی حکام کا کہنا ہے کہ بکنگھم پیلس بدستور برطانوی بادشاہت کا انتظامی اور رسمی مرکز رہے گا جہاں سرکاری ملاقاتیں، اہم تقریبات اور شاہی امور انجام دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:شاہ چارلس انتقال کرگئے، برطانوی ریڈیو نے غلط خبر نشر کر دی

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہی خاندان اپنی سرگرمیوں میں شفافیت اور جدید انداز اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اعلان کے موقع پر کنگ چارلس نے پہلی مرتبہ بادشاہ بننے کے بعد اپنی ادا کردہ ٹیکس رقم بھی ظاہر کی، جس کے مطابق انہوں نے 25-2024 کے مالی سال میں تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔

بکنگھم پیلس 1820 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اور ملکہ وکٹوریہ کے دور سے برطانوی بادشاہوں کی لندن رہائش گاہ رہا ہے۔ اس محل میں 775 کمرے ہیں اور یہ شاہی خاندان کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق محل کی تزئین و آرائش کا مقصد پرانے نظام، بجلی، پانی اور حرارتی سہولیات کو جدید بنانا ہے تاکہ عمارت آئندہ کئی دہائیوں تک استعمال کے قابل رہ سکے۔

شاہی حکام کے مطابق کنگ چارلس کے اس فیصلے سے بکنگھم پیلس کو عوام کے لیے مزید کھولا جا سکے گا، زیادہ تقریبات منعقد ہوں گی اور سیاحوں کے لیے رسائی میں اضافہ کیا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام برطانوی بادشاہت کے بدلتے ہوئے انداز کی علامت ہے، جس میں تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی شمولیت اور شفافیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp