افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر یورپ کی تشویش میں اضافہ، طالبان پر شدید عالمی دباؤ

جمعرات 25 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں نے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

افغانستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے واضح طور پر کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں تربیتی مراکز، اسلحہ، مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی حاصل ہے، جو خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں دہشتگرد حملے کرنے والے عناصر کا سرحد پار افغان علاقوں میں پناہ لینا ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں:ہرات سے یورپ تک احتجاج، طالبان کی خواتین مخالف پالیسیوں کو بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا

لنڈسے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے، جبکہ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے تحت دہشتگرد خطرات کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کو بھی تسلیم کیا۔

دوسری جانب یورپی یونین کے خصوصی نمائندے جیلز برٹرینڈ نے ٹی ٹی پی کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات پر یورپی ممالک کو بڑھتی ہوئی تشویش لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

برٹرینڈ کے مطابق دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، تربیتی مراکز، اسلحہ کی فراہمی کے نیٹ ورکس اور مالی معاونت کے ذرائع آج بھی فعال ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق برطانوی اور یورپی حکام کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپ کی تشویش اب عمومی سیکیورٹی خدشات سے آگے بڑھ کر افغانستان میں موجود دہشتگرد انفراسٹرکچر پر مرکوز ہو چکی ہے۔ یہ مؤقف پاکستان کی جانب سے طویل عرصے سے اٹھائے جانے والے خدشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جن میں مسلسل نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں، مالی وسائل، لاجسٹک معاونت اور آپریشنل آزادی حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 35ویں، 36ویں، 37ویں اور 38ویں مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، جن میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان (ISKP)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM/TIP)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU) اور جماعت انصاراللہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان: طاقت، وسائل اور عہدوں پر قندھاری قیادت کی اجارہ داری، طالبان حکومت کے خلاف نئی رپورٹ نے ہلچل مچا دی

ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 13 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان شدت پسند جنگجو موجود ہیں، جبکہ قریباً 6 ہزار سے 6 ہزار 500 ٹی ٹی پی جنگجو اور ان کے اہلِخانہ مشرقی افغانستان میں مقیم ہیں۔

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر تشویش صرف یورپ تک محدود نہیں رہی۔ روس، چین، امریکا اور پاکستان سمیت متعدد ممالک اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو مسلسل اٹھا رہے ہیں۔

روسی حکام کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں اور 18 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان جنگجو موجود ہیں، جبکہ چین بارہا ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔ امریکا بھی طالبان حکومت کو دہشتگرد گروہوں کو پناہ دینے اور انسداد دہشتگردی سے متعلق وعدوں پر عمل نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی کابل میں ایک محفوظ ٹھکانے پر ہلاکت نے بھی طالبان حکومت کے انسداد دہشتگردی کے دعوؤں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ عالمی سطح پر مطلوب دہشتگرد عناصر کو افغان سرزمین پر اب بھی پناہ حاصل ہے۔

مزید پڑھیں:طالبان سے سفارتی روابط؟ برسلز میں طالبان کی موجودگی نے یورپی خارجہ پالیسی پر نئے سوالات کھڑے کردیے

یاد رہے کہ دوحا معاہدے کے تحت طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور دہشتگرد تنظیموں کو پناہ، بھرتی، مالی معاونت یا سہولت کاری فراہم نہیں کی جائے گی۔ تاہم قریباً 5 سال گزرنے کے باوجود ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے متعلق عالمی خدشات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق برطانیہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے آنے والے مسلسل انتباہات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشتگرد محفوظ پناہ گاہوں، مالی معاونت کے نیٹ ورکس اور آپریشنل ڈھانچوں کے خاتمے کے بغیر نہ صرف خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں بلکہ طالبان حکومت کے ساتھ عالمی تعلقات کی معمول پر واپسی بھی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا یو این سیکریٹری جنرل کی امیدوار سے رابطہ، یواین قراردادوں پر دیانتدارانہ عملدرآمد پر زور

اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد لڑکی کے قتل کیس میں 5 رشتہ داروں کی سزائیں برقرار رکھ دیں

’صرف ڈگری نہیں، بچوں کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں‘، عدنان صدیقی کا والدین کو نصیحت بھرا پیغام

2027 میں 9 نئے ایموجیز متعارف کرائے جائیں گے، اچار اور شہابِ ثاقب بھی شامل

حکومت نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نئے سفری قوانین نافذ کر دیے

ویڈیو

عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی لیاری آمد، فٹبال اور باکسنگ کے فروغ کے لیے اکیڈمی بنانے کا عندیہ

گورنر ہاؤس میں ’ارفع کریم اے آئی سمر کیمپ‘، جہاں بچے مستقبل کی ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری