بڑی سائنسی تحقیق، سائنسدانوں نےیورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی اصل وجہ بتا دی

جمعہ 26 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی سائنسدانوں نے یورپ میں رواں سال پڑنے والی ریکارڈ بریک گرمی اور شدید ہیٹ ویو کی اصل وجہ کا سراغ لگا لیا ہے۔

یورپ، امریکا اور برطانیہ کے ماہرینِ موسمیات کی جانب سے کی گئی ایک مشترکہ اور اہم تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مغربی اور وسطی یورپ میں حالیہ شدید ہیٹ ویو کا بنیادی سبب انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں، جن کے بغیر اس نوعیت کی شدید گرمی کا رونما ہونا تقریباً ناممکن تھا۔

دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم

رپورٹ کے مطابق یورپ اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی کی لہر، اسپین میں 4 روز کے دوران 212 اموات

رواں ہفتے یورپ کے متعدد ممالک میں درجہ حرارت کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور نظامِ زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔

درجہ حرارت میں 1.4 ڈگری کا اضافہ

اس اہم ترین تحقیق کے سربراہ تھیوڈور کیپنگ کا کہنا ہے کہ ہماری زمین اب ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم ہو چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کوئلہ، تیل اور گیس (فوسل فیولز) کے بے دریغ جلنے سے زمین کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 1.4°C کا ہولناک اضافہ ہو چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر انسانی سرگرمیاں ماحول کو متاثر نہ کر رہی ہوتیں، تو اس طرح کی تباہ کن ہیٹ ویو کا آنا ناممکن تھا۔

شدت میں مسلسل اضافے کا خطرہ

موسمیاتی ماہرین اس نکتے پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیٹ ویو کے دورانیے اور اس کی شدت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں گرمی سے بچنے کی کوشش میں 40 افراد ڈوب گئے

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے مزید بدترین اثرات سے بچانا ہے، تو کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور گرین ہاؤس گیسوں پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اہم اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp