امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے تنازع کے حل کے لیے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اہم مذاکرات ہوں گے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق دونوں فریقوں نے فی الحال تمام عسکری کارروائیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران کو ’کام مکمل کرنے‘ کی دھمکی، خطے میں کشیدگی پھر بڑھ گئی
امریکی حکام نے بتایا کہ دونوں جانب سے ’کائنیٹک ایکٹیویٹی‘ یعنی فضائی حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں کو روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق فی الحال دونوں ممالک کشیدگی میں اضافہ نہیں کریں گے اور تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزر سکیں گے۔
Iran and the United States agreed to halt recent hostilities in the Gulf and renew talks regarding their dispute over the Strait of Hormuz, a US official said, raising hopes of saving an interim peace deal that was under pressure from days of tit-for-tat strikes… pic.twitter.com/OQ9iDSeiOl
— Reuters (@Reuters) June 29, 2026
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف 11 روز قبل ہونے والی جنگ بندی دوبارہ خطرے سے دوچار ہو گئی تھی۔
حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے نئے حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ دوبارہ شروع کرنے اور ’کام مکمل کرنے‘ کے بیان نے کشیدگی میں اضافہ کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکی عوام کی اکثریت ایران امریکا امن معاہدے کے حق میں، سروے رپورٹ
امریکی حکام کے مطابق تازہ کشیدگی کی بنیادی وجہ جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی مختلف تشریحات تھیں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق شرائط پر اختلاف سامنے آیا۔
معاہدے کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ اس کے بدلے امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کر دی تھی۔

گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی حکام کے درمیان امریکی فوج اور ایرانی پاسداران انقلاب کے درمیان ایک براہِ راست ’ہاٹ لائن‘ قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو مربوط انداز میں چلایا جا سکے، تاہم ہفتے تک یہ مجوزہ رابطہ نظام فعال نہیں ہو سکا تھا۔
مزید پڑھیں: گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے مذاکرات ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد ان کا مقام تبدیل کرکے دوحہ منتقل کر دیا گیا اور اب مذاکرات کا بنیادی محور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تنازع ہوگا۔
امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ کی بھی مذاکرات میں شرکت متوقع ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔













