اداکارہ اور ماڈل مریم مائیکل نے اپنی ذاتی زندگی کے ایک اہم باب سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی شادی 17 برس کی عمر میں ہوئی تھی، جبکہ 19 سال کی عمر میں طلاق ہو گئی۔
مریم مائیکل نے اپنی ذاتی زندگی کے ایک اہم مرحلے سے متعلق برسوں بعد خاموشی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی شادی 17 برس کی عمر میں ہوئی تھی، جبکہ 19 سال کی عمر میں ان کی طلاق ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے بالخصوص خواتین سے وابستہ طلاق کے سماجی داغ اور اس سے جڑے رویوں پر کھل کر بات کی۔
مریم مائیکل نے کہا کہ انہوں نے کئی برس تک اپنی زندگی کے اس حصے کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھا، تاہم وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ خاموشی شرمندگی کے احساس کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے لکھا ’میں اپنی زندگی کے اس باب پر شرمندہ ہونے سے انکار کرتی ہوں، کیونکہ اسی نے مجھے آج کی مریم مائیکل بنایا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے شادی یا معاشرتی دباؤ؟ کومل عزیز خان نے لڑکیوں کو کامیابی کا نسخہ بتا دیا
اداکارہ نے بتایا کہ وہ صرف 17 سال کی تھیں جب انہوں نے شادی کی، جبکہ 2 سال بعد، 19 برس کی عمر میں ان کی طلاق ہو گئی۔ ان کے بقول یہ رشتہ کسی تلخی یا ناکامی کی وجہ سے نہیں بلکہ 2 کم عمر افراد کے اس احساس کے ساتھ ختم ہوا کہ وہ اس وقت شادی کی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ علیحدگی باہمی رضامندی، احترام اور خوش اسلوبی سے ہوئی۔
’کبھی کبھی معاملات کامیاب نہیں ہوتے، اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کے احترام کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی راہیں الگ کیں، اور وقت کے ساتھ دونوں اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے۔‘
View this post on Instagram
مریم مائیکل نے مزید کہا کہ آج ان کے اور سابق شوہر کے درمیان نہ کوئی تلخی ہے، نہ ناراضی اور نہ ہی کوئی تنازع۔
’میں دل سے ان کے لیے نیک خواہشات رکھتی ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی میرے لیے یہی چاہتے ہیں۔‘
اس سوال پر کہ وہ اب یہ بات کیوں سامنے لا رہی ہیں؟ مریم نے کہا کہ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے اس حصے کو چھپاتی کیوں نہیں۔ ’اس کا جواب بہت سادہ ہے، کیونکہ یہ میری کہانی ہے۔‘
اداکارہ نے کہا کہ انہیں اپنے ماضی پر کوئی پچھتاوا نہیں، کیونکہ اسی نے انہیں زندگی کے وہ سبق سکھائے جو کسی اور طریقے سے نہیں سیکھے جا سکتے تھے۔ ان کے مطابق ہر تجربہ، ہر غلطی اور زندگی کا ہر باب انسان کی شخصیت کی تعمیر میں کردار ادا کرتا ہے۔
مریم مائیکل نے اپنے بیان میں معاشرے کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی، جہاں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کے تعلقات کو چھپا کر رکھیں تاکہ دوسروں کے لیے قابل قبول رہ سکیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا ’اگر 2 افراد یہ محسوس کریں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے موزوں نہیں تو طلاق کو شرمندگی کی علامت کیوں سمجھا جاتا ہے؟ آخر کسی کو اپنی زندگی کا کوئی باب اس طرح کیوں مٹانا چاہیے جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں؟‘
یہ بھی پڑھیے ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کے مستقبل سے متعلق نجومی کی چونکا دینے والی پیشگوئی
اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ اپنے ماضی پر شرمندہ نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ انہیں اس پر شرمندہ محسوس کرائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں دوبارہ شادی ہوئی تو وہ ایسے شخص کے ساتھ رشتہ قائم کرنا چاہیں گی جو ان کی پوری زندگی اور سفر کو قبول کرے، نہ کہ صرف اس کے آسان اور خوشگوار پہلوؤں کو۔
انہوں نے لکھا، ’میرا ماضی کوئی بوجھ نہیں، بلکہ میری زندگی کی اس کہانی کا حصہ ہے جس نے مجھے وہ انسان بنایا جو میں آج ہوں۔‘
مریم مائیکل نے اپنے پیغام میں خاص طور پر ان خواتین کی حوصلہ افزائی کی جو زندگی میں ایسے ہی تجربات سے گزر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا ’طلاق آپ کی قدر کا تعین نہیں کرتی، ماضی آپ کو محبت کا کم حق دار نہیں بناتا، اور نہ ہی آپ کی کہانی ایسی چیز ہے جسے چھپانا ضروری ہو۔‘
اپنے بیان کے اختتام پر اداکارہ نے واضح کیا کہ ان کا یہ پیغام نہ تو توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے اور نہ ہی کسی قسم کا اعترافِ جرم یا معذرت۔ ان کے بقول ’یہ صرف میری حقیقت ہے۔ اگر اسے بیان کرنے سے ایک بھی شخص خود کو تنہا یا اپنی کہانی پر شرمندہ محسوس کرنے سے بچ جائے تو میرا مقصد پورا ہو جائے گا۔‘














