بڑے بینک لین دین پر کڑی نظر، حکومت نے نیا نظام متعارف کرا دیا

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے یکم جولائی سے ایسے بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کی مالی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جن کے بینک اکاؤنٹس میں کسی بھی 6 ماہ کی رپورٹنگ مدت کے دوران جمع یا نکالی گئی رقم 10 کروڑ روپے سے تجاوز کرے گی۔

اس مقصد کے لیے بینکوں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کے ڈیٹا کا خودکار طور پر باہمی موازنہ کیا جائے گا۔

پیر کو جاری کیے گئے فائنانس ایکٹ 2026 کے مطابق اس اقدام کا مقصد فروخت کم ظاہر کرنے، اخراجات بڑھا چڑھا کر دکھانے اور ٹیکس سے متعلق معلومات چھپانے جیسے معاملات کی نشاندہی کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے قانونی جواز کے بغیر بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا

اس مقصد کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں نئی دفعہ 165AB شامل کی گئی ہے، جس کے تحت تمام بینکنگ کمپنیاں اور الیکٹرونک منی انسٹی ٹیوشنز پابند ہوں گی کہ وہ مخصوص مالیاتی لین دین کی معلومات الیکٹرونک طریقے سے سینٹرل ڈیٹا ہب پر اپ لوڈ کریں۔

نئی شق کے مطابق اگر کسی اکاؤنٹ ہولڈر کے ایک یا ایک سے زائد بینک اکاؤنٹس میں 6 ماہ کی رپورٹنگ مدت کے دوران جمع یا نکالی گئی مجموعی رقم 10 کروڑ روپے سے زیادہ ہو تو اس کی تفصیلات رپورٹ کرنا لازمی ہوں گی۔

ان معلومات میں جمع اور نکالی گئی رقوم، اکاؤنٹ کا ابتدائی اور اختتامی بیلنس، رپورٹنگ مدت کے دوران بلند ترین کریڈٹ بیلنس اور مجموعی کریڈٹ شامل ہوں گے۔

فائنانس ایکٹ کے مطابق ڈیٹا کی کراس میچنگ مکمل طور پر ڈیجیٹل اور خودکار نظام کے تحت ہوگی، جبکہ اس مرحلے پر انکم ٹیکس حکام کو براہِ راست اس معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

اگر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بینک اور ٹیکس ریکارڈ میں نمایاں فرق سامنے آتا ہے تو یہ معلومات مزید کارروائی کے لیے کمپلائنس رسک مینجمنٹ نظام کو منتقل کی جائیں گی، جہاں نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے کیس کا جائزہ لیا جائے گا۔

قانون کے مطابق ایف بی آر بینکوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کی مکمل رازداری یقینی بنانے کا پابند ہوگا اور قانون میں دی گئی اجازت کے علاوہ کسی بھی معلومات کو افشا یا غلط استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں بڑا اضافہ، آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول

رپورٹنگ کا نظام ہر مالی سال میں دو ادوار پر مشتمل ہوگا۔ پہلا دور یکم جولائی سے 31 دسمبر جبکہ دوسرا یکم جنوری سے 30 جون تک ہوگا۔ ان دونوں ادوار کی رپورٹیں بالترتیب 31 جنوری اور 31 جولائی تک جمع کرانا ہوں گی۔

قانون کے مطابق ’اکاؤنٹس‘ میں کرنٹ، سیونگ، کال، فکسڈ، ٹرم ڈپازٹس اور بینک میں جمع رقوم کی دیگر تمام اقسام شامل ہوں گی، جبکہ ’پیک کریڈٹ‘ سے مراد رپورٹنگ مدت کے دوران اکاؤنٹ ہولڈر کے تمام اکاؤنٹس میں موجود سب سے زیادہ کریڈٹ بیلنس ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کو بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بورڈ کی ہدایات کے مطابق بینکنگ ڈیٹا کا محفوظ مرکزی ورچوئل ذخیرہ قائم، چلائے اور برقرار رکھے، تاکہ بینکوں اور ٹیکس حکام کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ڈیجیٹل تجزیے کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز