یورپ جل رہا ہے امریکا جم رہا ہے، موسموں کا حیران کن منظرنامہ

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور سورج کی تپش سے جل رہا ہے جبکہ امریکا کے مختلف علاقے جم رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے 2 انتہائی متضاد مناظر سامنے آرہے ہیں کیوں کہ ایک جانب یورپ ریکارڈ توڑ گرمی کی لپیٹ میں ہے جبکہ دوسری جانب امریکا کے بعض علاقوں میں موسم سرما کی واپسی کے ساتھ شدید برفباری اور برفانی طوفان کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ

اگرچہ دنیا کے مختلف خطوں میں موسموں کا تفاوت کوئی نئی بات نہیں تاہم اس بار یورپ کی ریکارڈ توڑ گرمی اور امریکا کے بعض علاقوں میں موسم سرما جیسی صورتحال نے ماہرین اور عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

جب یورپ کے متعدد ممالک شدید گرمی کی تاریخی لہر سے نبرد آزما ہیں اور درجہ حرارت کئی مقامات پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے عین اسی وقت امریکا کے بعض علاقوں میں جون کے اختتام پر شدید برفباری اور سرد موسم کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ یہ غیر معمولی موسمی تضاد ایک بار پھر عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر سوالات کو نمایاں کر رہا ہے۔

یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے جہاں جرمنی، فرانس، اٹلی، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک اور پولینڈ سمیت کئی ممالک میں درجہ حرارت نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

مزید پڑھیے: 40 ڈگری سے زائد گرمی نے یورپ کو جھلسا دیا، فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی

ماہرین موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا جبکہ جرمنی میں ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 41.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈنمارک کے محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں 1874 سے ریکارڈ رکھے جانے کے بعد پہلی بار درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا، جو ملکی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہیٹ ویو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھی۔ ان کے مطابق صرف 2 دہائیوں کے دوران رات کے وقت انتہائی گرم درجہ حرارت کے امکانات 100 گنا تک بڑھ چکے ہیں۔

جرمنی میں شدید گرمی کے باعث ملک کے تقریباً تمام حصوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں سے پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔

فرانس میں شدید گرمی کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ریل سروس، بجلی کی پیداوار، تعلیمی سرگرمیوں اور عوامی تقریبات کو بھی متاثر ہونا پڑا ہے۔

مزید پڑھیں: یورپ ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، جرمنی میں درجہ حرارت 41 ڈگری سے تجاوز، متعدد ممالک میں ہائی الرٹ

اٹلی کی وزارت صحت نے روم، میلان، وینس، فلورنس اور ٹورین سمیت 18 شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے جہاں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ادھر سلوواکیہ نے اپنی تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی جہاں درجہ حرارت 26.3 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔

برطانیہ میں بھی گرمی کی شدت کے باعث کھلے پانی میں نہانے کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں جاری یہ شدید گرمی ’اومیگا بلاک‘ نامی موسمیاتی مظہر کے باعث پیدا ہوئی جس میں گرم ہوا کا ایک بڑا نظام طویل عرصے تک کسی خطے پر جمود اختیار کر لیتا ہے۔

دوسری جانب جب دنیا کے بیشتر حصے شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں امریکا کے شمالی راکی پہاڑی علاقوں میں موسم سرما جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

امریکی محکمہ موسمیات نے ایڈاہو، مونٹانا اور وائیومنگ کی سرحدی پہاڑی علاقوں کے لیے موسم سرما کے طوفان کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران 3 فٹ تک برفباری ہو سکتی ہے جبکہ شدید ہواؤں اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔

حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی سامان ساتھ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بڑی سائنسی تحقیق، سائنسدانوں نےیورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی اصل وجہ بتا دی

مونٹانا کے بعض علاقوں میں بھاری اور گیلی برفباری متوقع ہے جبکہ ایڈاہو کے بعض پہاڑی علاقوں میں ایک فٹ تک برف پڑنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردی، تیز ہوائیں اور برفباری ہائپوتھرمیا کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے جبکہ برف کے وزن سے درخت گرنے اور راستے بند ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی مونٹانا اور وسطی ایڈاہو میں درجہ حرارت چند روز قبل کے موسم گرما کے مقابلے میں 20 سے 30 ڈگری تک کم ہو گیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں ہواؤں کی رفتار 50 میل فی گھنٹہ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا کے بیشتر حصوں میں شدید گرمی کے باوجود امریکا میں برفباری کا امکان، وارننگ جاری

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں شدید گرمی اور امریکا کے بعض حصوں میں غیر معمولی برفباری کا بیک وقت رونما ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت میں اضافے کا نام نہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں موسم کے روایتی نظام کو بھی غیر متوقع اور انتہائی شکلوں میں تبدیل کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp