ارجنٹینا میں مکمل طور پر اے آئی سے چلنے والی کمپنیوں کے قیام کی تیاری

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ارجنٹینا مکمل طور پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے چلنے والی کمپنیوں کے قیام کی تیاری کر رہا ہے اور اگر مجوزہ قانون منظور ہو گیا تو یہ دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جو ’نان ہیومن کارپوریشنز‘ کے لیے باقاعدہ قانونی درجہ متعارف کرائے گا۔

ارجنٹینا کے صدر حاویئر میلی نے گزشتہ ماہ کانگریس میں ایک بل پیش کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ایسی کمپنیاں قائم کی جا سکیں گی جن کا انتظام مصنوعی ذہانت کے نظام یا روبوٹس سنبھالیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی ماہرین کی اہمیت برقرار، کارساز کمپنی فورڈ نے مصنوعی ذہانت سے مایوس ہوکر انجینیئرز دوبارہ بھرتی کرلیے

فائنانشل ٹائمزمیں شائع اپنے مضمون میں صدر حاویئر میلی نے اس تصور کو ایک نئی قسم کی کمپنی قرار دیا جو انسانی ملازمین کے بغیر بھی کام کر سکے گی، جبکہ اے آئی ایجنٹس یا روبوٹس غیر متوقع حالات میں آزادانہ فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

صدر میلی نے کہا کہ ان کا ملک کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے، تاہم اس اعلان پر ٹیکنالوجی ماہرین نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اے آئی کو حد سے زیادہ اختیارات دینے سے کمپنیوں کے احتساب اور ذمہ داری کے نظام پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

مجوزہ اصلاحات کے مطابق ’خودکار کمپنی‘ کو ایک انسانی منتظم رکھنا لازمی ہوگا جو مجموعی نگرانی اور آپریشنز کی دیکھ بھال کرے گا۔

بل میں یہ اجازت بھی دی گئی ہے کہ کمپنی کی انتظامیہ فیصلہ سازی کے لیے اے آئی سے مدد لے سکتی ہے، لیکن اس سے منتظمین کی نگرانی اور نتائج کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی۔

بل کے متن کے مطابق اگر کسی اے آئی یا الگورتھمک نظام کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے تو کمپنی خود قانونی طور پر ذمہ دار ہوگی۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے پولیس میں 2 کروڑ روپے کی تنخواہوں کی خردبرد کا بھانڈا پھوڑ دیا، 3 اہلکار گرفتار

صدارتی ترجمان کے دفتر کے ایک نمائندے نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اس قانون سے منسلک کوئی مخصوص کمپنی یا سرمایہ کاری کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو ارجنٹینا وہ پہلا ملک ہوگا جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والی کمپنیوں کے لیے الگ قانونی زمرہ قائم کرے گا۔

صدر حاویئر میلی پہلے بھی افراطِ زر میں نمایاں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مراعات متعارف کرانے کے بعد ارجنٹینا کو مستقبل کے عالمی اے آئی مرکز کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، اوریکل نے ایک سال میں 21 ہزار ملازمین فارغ کیے، کمپنی رپورٹ

میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی سے چلنے والی کمپنیوں کا تصور اس لیے توجہ حاصل کر رہا ہے کہ اس سے کاروباری سرگرمیوں کے بڑے حصے کو خودکار بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ارجنٹینا ایسے قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک پر غور کر رہا ہے جس میں اے آئی کمپنیوں کے بیشتر امور سنبھالے، پھر بھی کمپنیاں بالآخر انسانی قانونی اور سماجی نظام ہی کے اندر کام کرتی ہیں، اس لیے مکمل خودمختار اے آئی کارپوریشنز کے عملی اور اخلاقی پہلوؤں پر بحث جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp