وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایسی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کی گزشتہ 78 برس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں کامیابی اور بعد ازاں خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششوں نے ملک کو دنیا میں نئی شناخت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری حکمت عملی نے پاکستان کو دفاعی میدان کے ساتھ ساتھ امن کے محاذ پر بھی نمایاں مقام دلایا، جبکہ ان کامیابیوں کو مستقبل میں قومی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران وہ سنگ میل عبور کیے ہیں جن کی گزشتہ 78 برس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی نے ثابت کیا کہ قوم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا، جبکہ اس کامیابی میں مسلح افواج، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں کشیدگی کے خاتمے کے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ ان کے بقول، ایک ایسا ملک جسے کبھی دنیا دہشتگردی کے تناظر میں دیکھتی تھی، آج وہ امن کے فروغ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے پہچانا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایسی سفارتی کوششیں کیں جنہوں نے ایک بڑی علاقائی جنگ کے امکانات کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا، ورنہ اس کے اثرات پورے خطے سے آگے بڑھ کر عالمی سطح تک پھیل سکتے تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ معرکۂ حق اور امن کے لیے پاکستان کا سفارتی کردار دونوں قومی تاریخ کے ایسے روشن ابواب ہیں جنہیں آنے والی نسلوں کے لیے نصابی کتب میں سنہرے حروف سے لکھا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے اس کے بعد ملک کے تعلیمی نظام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ استاد اور شاگرد کے رشتے کا تقدس پہلے جیسا نہیں رہا، جبکہ تعلیمی نصاب بھی اپنی اصل روح سے ہٹ چکا ہے۔ ان کے مطابق ان کے دور میں پاکستان تحریک، برصغیر اور مسلم تاریخ جس معیار کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی، آج وہ معیار باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار میں حکمرانوں کی سیاسی ضروریات اور بعض سپر پاورز کو خوش کرنے کے لیے تاریخ کو مسخ کیا گیا، جس کے نتیجے میں نئی نسل کو درست تاریخی حقائق سے محروم رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری یا ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسے باکردار شہری تیار کرنا ہے جو معاشرے کی رہنمائی کر سکیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والی تقریباً 65 فیصد طالبات عملی طور پر بطور ڈاکٹر خدمات انجام نہیں دیتیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے قومی وسائل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں موجود فکری اور سماجی بگاڑ کو دور کرنے میں اساتذہ کا کردار سب سے اہم ہے، جبکہ سیاست دان خود رہنمائی کے محتاج ہیں، اس لیے قوم کی فکری تعمیر کی اصل ذمہ داری تعلیمی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ پاکستان میں ایک ایسا یکساں قومی نصاب متعارف کرایا جانا چاہیے جو گوادر سے گلگت بلتستان تک یکساں طور پر پڑھایا جائے اور قومی شناخت کو مضبوط بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سے صوبائی یا علاقائی شناختیں ختم نہیں ہوں گی بلکہ وہ اپنی جگہ برقرار رہیں گی، تاہم ان کے ساتھ ایک مضبوط پاکستانی شناخت بھی پروان چڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں بھی یکساں نصاب کا تصور موجود ہے، مگر بعض صوبوں نے اس کی مزاحمت کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسا قومی نصاب نافذ ہوگا جو پاکستان کی حقیقی تاریخ، قومی کامیابیوں، “معرکۂ حق”، امن کے لیے سفارتی کردار اور قومی اقدار کو درست انداز میں نئی نسل تک منتقل کرے گا۔
اس موقع پر خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو اوسط درجے کی نہیں بلکہ اعلیٰ معیار کی تعلیم کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول نئی نسل کو ایسی تعلیم سے آراستہ کیا جانا چاہیے جو انہیں علم، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں سے ہمکنار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ کی فکری اور اخلاقی تربیت کریں، جبکہ معاشرے میں بااثر طبقات اور سیاسی قیادت کو بھی ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور معاشرے کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں امن کو نقصان پہنچانے کی بھارتی سازش ناکام ہو گئی، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ آج کا اصل نصب العین ایک مضبوط، باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دینا ہونا چاہیے، کیونکہ یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
وزیر دفاع نے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے عوام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زندگی میں جو عزت، شناخت اور مقام ملا، اس میں سیالکوٹ کے عوام کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بینکاری کے شعبے میں 22 سے 23 سال خدمات انجام دینے کے بعد 1991 میں سیاست میں آئے اور آج اگر انہیں قومی سطح پر کوئی شناخت حاصل ہے تو وہ سیالکوٹ کے عوام کی محبت اور اعتماد کی بدولت ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ، ان کا خاندان اور آنے والی نسلیں ہمیشہ سیالکوٹ کے عوام کی احسان مند رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں جو عزت اور اعتماد دیا، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات، سیاسی جماعتیں اور نظریات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان سب سے بڑھ کر پاکستان ہے۔ ان کے بقول، پاکستان پہلے بھی مقدم تھا، آج بھی مقدم ہے اور ہمیشہ مقدم رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی مفاد کو ہر حال میں ذاتی اور سیاسی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔












