نریندر مودی کو ملنے والے متعدد عالمی اعزازات متنازع، برطانوی جریدے کی رپورٹ نے سوالات اٹھا دیے

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مختلف غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے متعدد ایوارڈز ایسے ہیں جو یا تو ان کے دورے سے چند روز قبل تخلیق کیے گئے یا پھر ان کے وہ پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مودی کے بیرونی اعزازات اب بھارت میں سیاسی تنازع کا موضوع بنتے جا رہے ہیں اور ان پر اندرونِ ملک بھی بحث جاری ہے۔

مزید پڑھیں: راہول گاندھی کا مودی پر بڑا الزام، ایپسٹین فائلز کی وجہ سے دباؤ میں ہونے کا دعویٰ

’سیشلز کا ایوارڈ سوالات کی زد میں‘

دی گارڈین کے مطابق نریندر مودی کو سیشلز میں دیا گیا Guardian of the Blue Horizon ایوارڈ ان کی آمد سے صرف 3 روز قبل متعارف کرایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اس نئے اعزاز کے پہلے اور اب تک واحد وصول کنندہ ہیں۔

برطانوی اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ اس ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں Republic اور Seychelles جیسے الفاظ بھی غلط لکھے گئے تھے، جبکہ سرٹیفکیٹ کے بارے میں یہ خدشات بھی سامنے آئے کہ اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

تاہم سیشلز کی وزارت خارجہ نے ان دعوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ غلطیوں والا سرٹیفکیٹ دراصل ایک ورکنگ ڈرافٹ تھا، جبکہ اصل اور منظور شدہ سرٹیفکیٹ بعد میں جاری کردیا گیا۔ سیشلز حکومت نے یہ بھی واضح کیاکہ مودی کو دیا گیا Guardian of the Blue Horizon اعزاز مکمل طور پر حقیقی ہے۔

’بھارت میں سیاسی ردعمل‘

مودی کو ملنے والے اس اعزاز پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے طنز کرتے ہوئے کہا ’انہیں کوئی بھی ایوارڈ دیں، وہ دوڑے چلے آئیں گے۔‘

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مودی کو سیشلز کا اعزاز ملنے کو بھارت کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز انہیں ماحولیاتی قیادت اور ماحول دوست اقدامات کے اعتراف میں دیا گیا۔

اسرائیل اور فلپ کوٹلر ایوارڈ کا بھی ذکر

دی گارڈین کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مودی کو اسرائیل کے دورے سے قبل تخلیق کیے گئے Medal of the Knesset کا بھی پہلا اعزاز دیا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کا یہ میڈل بھی ان کے دورے سے چند روز قبل ہی بنایا گیا اور مودی اب تک اس کے واحد وصول کنندہ ہیں۔

رپورٹ میں 2019 کے Philip Kotler Presidential Award کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے پہلے وصول کنندہ بھی نریندر مودی تھے۔ دی گارڈین کے مطابق یہ اعزاز ہر سال کسی قومی رہنما کو دیا جانا تھا، تاہم مودی کے بعد اب تک کسی اور شخصیت کو یہ ایوارڈ نہیں دیا گیا۔

شخصیت سازی یا سفارتی کامیابی؟

برطانوی اخبار کے مطابق مودی کو ملنے والے بعض اعزازات نے بھارت کے اندر سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ بھارتی تجزیہ کار نیلانجن مکھوپادھیائے کے مطابق یہ ایوارڈز شخصیت پر مبنی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی کے حامی ان اعزازات کو بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین انہیں شخصیت سازی، سیاسی تشہیر اور امیج بلڈنگ کی حکمت عملی سے جوڑ رہے ہیں۔

مزید اعزازات بھی زیر بحث

دی گارڈین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران نریندر مودی کو ایتھوپیا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کی جانب سے بھی اعلیٰ اعزازات دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق مودی ایتھوپیا کا Great Honour Nishan حاصل کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہِ حکومت قرار دیے گئے، جبکہ انہیں Order of the Republic of Trinidad and Tobago سے بھی نوازا گیا۔

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ مودی کو ملنے والے کئی غیر ملکی اعزازات ایسے ہیں جن کے وہ پہلے یا اب تک واحد وصول کنندہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیشلز ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں سامنے آنے والی غلطیوں نے اس اعزاز پر عالمی میڈیا میں بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ ناقدین اب مودی کے بیرونی اعزازات پر پہلے سے زیادہ کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں۔

دی گارڈین کے مطابق مودی کے عالمی اعزازات کو ایک جانب بھارت کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب انہیں سیاسی تشہیر اور داخلی امیج بلڈنگ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مودی کو کیسے ڈرا، دھما کر امن قائم کرایا، ٹرمپ نے ساری کہانی تفصیل سے بتادی

بھارتی اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی حکومت بیرون ملک ملنے والے اعزازات کو داخلی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی ان تمام اعزازات کو مودی کی عالمی حیثیت کے اعتراف کا ثبوت قرار دے رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے وائی فائی راؤٹر کتنا مفید ثابت ہوسکتا ہے؟

’انویسٹ پاک‘ پورٹل کا افتتاح: پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیر خزانہ

فیفا کے فیصلے پر بیلجیم برہم، امریکی فٹبالر بالوگن کی معطلی ختم کرنے پر شدید احتجاج

متحدہ عرب امارات میں مہنگی قیمت کے باوجود پاکستانی آم کی مانگ میں مسلسل اضافہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیرمعمولی سرگرمیاں، ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

ویڈیو

لاہور کا مٹکا سوڈا، یہ کیسا مشروب ہے؟

اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان سرمایہ کاروں کی دلچسپی، نئے اکاؤنٹس کھلنے کی شرح میں 50 فیصد اضافہ

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟