حکومت نے یکم جولائی 2026 سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو 2 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کردیا ہے، جس کے بعد اس مد میں وصولیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
کلائمیٹ سپورٹ لیوی پہلی مرتبہ یکم جولائی 2025 سے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت نافذ کی گئی تھی۔ اس سے قبل پیٹرولیم مصنوعات پر صرف پیٹرولیم لیوی وصول کی جاتی تھی، جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کا کوئی الگ نظام موجود نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی دگنی، پیٹرولیم لیوی میں کمی، قیمتیں برقرار
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران صارفین سے کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 35 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت نے مالی سال کے لیے 51 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا تھا تاہم 48 ارب روپے کی وصولی ہو سکی تھی۔
اب لیوی کی شرح دگنی ہونے کے بعد آئندہ مالی سال میں اس مد میں وصولیوں میں مزید نمایاں اضافہ متوقع ہے، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کی جائے تو 90 سے 95 ارب روپے کی وصولی ہو سکتی ہے۔
گزشتہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں صارفین سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 12 کھرب 5 ارب 18 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ جولائی میں ایک کھرب 45 ارب، اگست میں ایک کھرب 15 ارب، ستمبر میں ایک کھرب 11 ارب، اکتوبر میں ایک کھرب 45 ارب، نومبر میں ایک کھرب 51 ارب، دسمبر میں ایک کھرب 57 ارب، جنوری میں ایک کھرب 24 ارب، فروری میں ایک کھرب 20 ارب جبکہ مارچ میں ایک کھرب 37 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے گئے تھے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والے وسائل موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں، شجرکاری، قابلِ تجدید توانائی، سیلاب سے بچاؤ، گلیشیئرز کے تحفظ اور دیگر ماحولیاتی اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔
تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی علیحدہ اور شفاف فنڈ یا اخراجاتی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں 100 فیصد اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت واضح کرے کہ ماحولیات کے نام پر وصول کی جانے والی رقم آخر کہاں خرچ ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو پیٹرولیم لیوی سے الگ رکھا جائے اور اس کی وصولی اور اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ ہر وصول کیا جانے والا روپیہ صرف ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ ہو۔
شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات سے دوچار ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، سیلاب کے خطرات بڑھ رہے ہیں، ایسے میں کلائمیٹ فنڈز کا شفاف اور مؤثر استعمال ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: جماعتِ اسلامی کا پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کے خلاف آئینی عدالت سے رجوع
ان کے مطابق اگر عوام سے ماحولیات کے نام پر اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے تو اس کے استعمال کا مکمل حساب بھی عوام کو دیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی شرح 5 روپے فی لیٹر ہونے سے حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوگا، تاہم اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اس مد میں حاصل ہونے والی رقم کے استعمال کے لیے علیحدہ فنڈ، سالانہ آڈٹ اور باقاعدہ عوامی رپورٹنگ کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ اس لیوی کا اصل مقصد پورا ہو سکے۔













