خیبر پختونخوا اسمبلی نے اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ سے متعلق قوانین میں ترامیم کرتے ہوئے غلط رپورٹنگ پر جرمانوں میں اضافے سمیت قید کی سزا کی منظوری دے دی ہے۔
ترمیم سے قبل غلط رپورٹنگ پر سزا 5 ہزار روپے جرمانہ، قید یا دونوں تھی، تاہم اب ترمیم کے بعد جرمانہ بڑھا کر 3 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
نئی ترامیم کے تحت اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ ، جس کی اشاعت پر پابندی عائد کی گئی ہو، پر بھی جرمانے میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے جرمانہ 5 ہزار روپے تھا، جو اب بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی کا نیا استحقاق قانون آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے، اختیار ولی
اسی طرح اسمبلی سے متعلق غیر مہذب مواد کی اشاعت پر جرمانے میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے، جو 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ 6 ماہ قید کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔
نئی ترامیم میں کسی بھی رکنِ اسمبلی کے خلاف غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد شائع کرنے پر بھی جرمانے اور سزا کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو گی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی نے ان ترامیم کی منظوری کچھ عرصہ قبل دی تھی، تاہم متعلقہ دستاویزات اب منظرِ عام پر آئی ہیں، اس حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی نے وضاحت بھی جاری کی ہے۔
Media reporting of Assembly proceedings faces tighter curbs under new KP law#KPAssembly #KPUpdates #PressFreedomhttps://t.co/mDNrXOehUk
— Tribal News Network (@TNNEnglish) July 7, 2026
خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب نے قوانین میں ترامیم اور سزاؤں و جرمانوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، دونوں اداروں نے اپنی الگ الگ پریس ریلیز میں ان ترامیم پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یونین اسمبلی کی جانب سے مبینہ طور پر منظور کیے گئے اس قانون پر شدید تشویش، افسوس اور مذمت کا اظہار کرتی ہے، جس کے تحت صحافیوں پر قید، بھاری جرمانوں اور اسمبلی کارروائی کی آزادانہ کوریج پر پابندیوں جیسے سخت اختیارات متعارف کرائے گئے ہیں۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، جنرل سیکریٹری ارشاد علی اور دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، جبکہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے پر قید، جرمانوں اور پابندیوں کی دھمکی دینا آئینِ پاکستان میں دیے گئے اظہارِ رائے اور آزادیِ صحافت کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پوسٹر لانے پر ہنگامہ، اجلاس ملتوی
یونین نے اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ مذکورہ بل کو کئی ماہ تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا اور متعلقہ صحافتی تنظیموں، میڈیا نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے کوئی مؤثر مشاورت نہیں کی گئی۔ یونین کے مطابق ایسے قوانین کو یکطرفہ انداز میں نافذ کرنا جمہوری روایات کے منافی ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی برادری کے تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جائے، متنازع شقوں پر نظرِثانی کی جائے۔
’تمام صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے بعد ایسا قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے، جو ایک طرف ایوان کے وقار کو برقرار رکھے اور دوسری طرف آزادیِ صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کو بھی یقینی بنائے۔‘

یونین نے واضح کیا ہے کہ اگر اس قانون کی متنازع شقیں واپس نہ لی گئیں تو صوبے بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور ہر جمہوری و قانونی آپشن استعمال کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔
دوسری جانب پشاور پریس کلب کی قیادت نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق سے متعلق قانون میں ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صحافت اور آزادیِ اظہارِ رائے پر کوئی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی۔
ترجمان اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے میڈیا کو جاری بیان میں میڈیا پر پابندیوں سے متعلق تاثر کی تردید کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر مجاز مواد کے استعمال یا تشہیر سے متعلق شقیں 1988ء کے قانون کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد سرکاری اور پارلیمانی ریکارڈ کے تحفظ کو یقینی بنانا اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کسی مخصوص طبقے، صحافی یا میڈیا ادارے کے خلاف کوئی نئی پابندی نہیں، بلکہ دیگر پارلیمانی اداروں کی طرح عمومی قانونی تقاضے ہیں۔
ترجمان کے مطابق اسمبلی کے نظم و ضبط، کارروائی اور ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے سے متعلق اسپیکر کے اختیارات بھی 1988ء کے قانون میں پہلے سے موجود ہیں، جنہیں قواعد و ضوابط اور آئینی تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔














