ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) بلوچستان کے زیر اہتمام پیر 13 جولائی سے صوبے کے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں سات روزہ خصوصی بوسٹر ڈوز فریکشنل اِن ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین (fIPV) مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر 7 لاکھ 30 ہزار 670 بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں پولیو کے 2 نئے کیسز، پاکستان میں رواں سال تعداد 3 ہو گئی
ای او سی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کے مطابق یہ خصوصی مہم کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن اور برشور کے ہائی رسک علاقوں میں چلائی جائے گی، جہاں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مہم کی کامیابی کے لیے 2 ہزار 700 تربیت یافتہ پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر 5 سال سے کم عمر بچوں کو fIPV ویکسین لگائیں گی۔ ان کے مطابق اس مہم کا مقصد بچوں میں پولیو کے خلاف قوت مدافعت کو مزید مضبوط بنانا اور وائرس کی منتقلی کا سلسلہ روکنا ہے۔
انعام الحق نے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ویکسینیشن کا عمل مسلسل اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین سے محروم رہ جانے والا ہر بچہ وائرس کی گردش برقرار رکھنے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے والدین ہر بچے کو لازمی حفاظتی ٹیکہ لگوائیں۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم سے پولیو اوورسائیٹ بورڈ کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
انہوں نے والدین، علماء کرام، قبائلی عمائدین، سماجی رہنماؤں، میڈیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں، کیونکہ پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
صوبائی محکمہ صحت اور ای او سی بلوچستان نے بھی واضح کیا کہ ویکسین محفوظ، مؤثر اور بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پولیو وائرس کی موجودگی رپورٹ ہو چکی ہے۔














