سوڈان میں 3 سال سے جاری خانہ جنگی نے ہزاروں نوجوانوں کی تعلیم، خواب اور مستقبل کو شدید متاثر کیا ہے۔ جنگ سے بچ کر وسطی افریقی جمہوریہ پہنچنے والے متعدد طلبہ اب جلاوطنی میں انتہائی محدود وسائل کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے نوجوان خود کو ’سوڈان کی کھوئی ہوئی نسل‘ قرار دے رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں جاری جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ کی زندگی بھی بدل کر رکھ دی ہے۔ دارفور اور دیگر متاثرہ علاقوں سے فرار ہو کر وسطی افریقی جمہوریہ کے کورسی پناہ گزین کیمپ پہنچنے والے نوجوان اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
"We have already lost so many years."
Years of conflict have left thousands of Sudanese students struggling to continue their education in exile ⤵️ https://t.co/0T0lmn3CIh
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 11, 2026
20 سالہ فارمیسی کی طالبہ اسلام ابراہیم بھی انہی طلبہ میں شامل ہیں، جن کے والد الفاشر کے محاصرے کے دوران مارے گئے۔ وہ اپنی والدہ اور 6 بہنوں کے ساتھ جان بچا کر وسطی افریقی جمہوریہ پہنچیں، جہاں اب وہ کورسی کیمپ میں نئی آنے والی خواتین اور لڑکیوں کی رضاکارانہ مدد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت سوڈان واپس جانا چاہتی ہیں اگر انہیں اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے۔
رپورٹ کے مطابق کیمپ میں موجود درجنوں طلبہ نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں امید تھی کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور وہ واپس جا کر اپنی ڈگریاں مکمل کر سکیں گے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ امید ماند پڑتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سوڈان میں اجتماعی قتل، اجتماعی زیادتیاں اور بھوک کو ہتھیار بنانے کے اقدامات نسل کشی کے مترادف قرار
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی مدد سے کئی سوڈانی طلبہ کو بانگوئی یونیورسٹی میں داخلہ تو ملا، مگر انہیں ایک نئے تعلیمی نظام اور فرانسیسی زبان میں تعلیم حاصل کرنے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عربی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے ان طلبہ کے لیے نئی زبان سیکھتے ہوئے اعلیٰ تعلیم جاری رکھنا انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے۔
سوشیالوجی کے طالب علم قمر الشیخ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈگری حاصل کرکے واپس آئیں گے، مگر موجودہ حالات میں یہ وعدہ پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
اسی طرح بدرالدین عیسیٰ، جن کے والد ایک مذہبی رہنما تھے، جنگ کے باعث خاندان سمیت ہجرت پر مجبور ہوئے، جبکہ انتصار الصادق نے اپنے شوہر کی ہلاکت کے بعد اپنے 3 سالہ بیٹے کو والدہ کے پاس کیمپ میں چھوڑ کر تعلیم جاری رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا۔
It is profound to witness the lack of global empathy for Sudan. After over three years of international neglect, Sudanese prefer enduring hardship in their homeland rather than facing the humiliation of becoming refugees. pic.twitter.com/cdvt473zV4
— ᴵᵇʳᵃʰⁱᵐ (@IbrahimG90) July 10, 2026
رپورٹ کے مطابق ایک اور طالب علم احمد، جو جنگ سے پہلے قانون کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور جج بننے کا خواب رکھتے تھے، اب جلاوطنی میں اپنی تعلیم معطل ہونے کے بعد صرف بقا کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جنگ نے ان سے صرف گھر اور عزیز ہی نہیں چھینے بلکہ ان کے خواب، تعلیمی مواقع اور مستقبل بھی متاثر کر دیا ہے، تاہم وہ اب بھی تعلیم کو اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے اور بہتر مستقبل کی واحد امید سمجھتے ہیں۔














