شدید گرمی : فرانس میں ڈوبنے سے اموات میں 14 فیصد اضافہ

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس میں جون کے وسط سے اب تک ڈوبنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکام کے مطابق 19 جون سے اب تک 301 افراد ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکومت نے اس اضافے کو ملک میں جاری طویل اور شدید گرمی کی لہروں سے بھی جوڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی سے یورپی کاروباروں کو اربوں یورو کا نقصان، انشورنس نظام بے بس

فرانس کی وزیرِ کھیل و نوجوانان مارینا فیراری نے فرانس انٹر ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈوبنے سے ہونے والی اموات گزشتہ برس کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک المناک نقصان قرار دیا۔

فرانس کے علاوہ اسپین اور اٹلی بھی حالیہ عرصے میں شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں رہے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں بلند درجہ حرارت کے باعث بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ بھی بھڑکی جس سے ہزاروں ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔

شدید گرمی میں پانی میں اترنے کا خطرہ

فرانسیسی وزیر کے مطابق شدید گرمی سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ تالابوں، دریاؤں اور دیگر آبی مقامات کا رخ کر رہے ہیں لیکن بعض افراد پانی میں اترتے ہوئے حفاظتی خطرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے: یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، صرف جون میں 12 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ

انہوں نے بتایا کہ ڈوبنے کے کئی مہلک واقعات ایسے مقامات پر پیش آئے جہاں تیراکی کی اجازت نہیں تھی یا وہاں نگرانی کا کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔ ان میں کھلے پانی کے مقامات، خاص طور پر نہریں بھی شامل ہیں۔

فیراری نے کہا کہ حکومت علاقائی حکام کے ساتھ مل کر تیراکی کے لیے مخصوص مقامات کو بہتر بنانے اور انہیں زیادہ محفوظ بنانے پر کام کر رہی ہے۔

نہریں اور دریا کیوں خطرناک ہوسکتے ہیں؟

وزیر کے مطابق شدید گرمی کے دوران نہروں اور دریاؤں میں ٹھنڈا ہونے کے لیے اترنے والے افراد بعض اوقات پانی کے چھپے ہوئے خطرات سے واقف نہیں ہوتے۔

تیز بہاؤ، پانی کے اندر موجود رکاوٹیں، اچانک گہرائی میں اضافہ اور باہر نکلنے کے لیے مناسب جگہ نہ ہونا ایسے خطرات میں شامل ہیں جو عام طور پر پرسکون دکھائی دینے والے پانی کو بھی خطرناک بنا سکتے ہیں۔

فیراری نے کہا کہ گرمی کے موسم میں لوگوں کو ٹھنڈا ہونے کی کوشش کے دوران اپنی جسمانی صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

گرم جسم کا اچانک ٹھنڈے پانی سے سامنا

فرانسیسی وزیر نے ایک اور خطرے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے بعد اچانک ٹھنڈے پانی میں اترنے سے جسم کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او نے خبردار کردیا

بہت زیادہ گرم ماحول سے آنے کے بعد اچانک ٹھنڈے پانی میں داخل ہونے سے جسم کا ردعمل متاثر ہوسکتا ہے جبکہ بعض افراد اپنی جسمانی صلاحیت سے زیادہ دیر تک تیرنے یا پانی میں رہنے کی کوشش بھی کرسکتے ہیں۔

بزرگ افراد بھی خطرے میں

حکام کے مطابق ڈوبنے کے واقعات صرف دریاؤں، نہروں یا ساحلوں تک محدود نہیں۔ متعدد واقعات گھروں کے نجی سوئمنگ پولز میں بھی پیش آئے خاص طور پر بزرگ افراد کے حوالے سے۔

فیراری نے کہا کہ بہت سے مہلک واقعات انفرادی سوئمنگ پولز میں پیش آئے اور اس لیے گھر میں موجود تالاب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھے جانے چاہییں۔

یورپ میں بڑھتی گرمی اور بدلتا موسم

فرانس میں ڈوبنے کے واقعات میں اضافے کا یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ کے کئی حصے غیر معمولی گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، تاہم یورپ خاص طور پر تیزی سے گرم ہونے والا خطہ بن چکا ہے۔ یورپی موسمیاتی سروس کوپرنیکس کے مطابق یورپ کا درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران پانی میں جانا بظاہر جسم کو فوری طور پر ٹھنڈا کرنے کا آسان طریقہ لگ سکتا ہے لیکن غیر محفوظ مقامات، اچانک ٹھنڈے پانی میں داخل ہونا اور اپنی جسمانی صلاحیت سے تجاوز کرنا خطرناک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

اسی لیے حکام کا زور اس بات پر ہے کہ شدید گرمی میں ٹھنڈا ہونے کے لیے صرف محفوظ اور نگرانی والے مقامات کا انتخاب کیا جائے اور دریاؤں، نہروں یا غیر مجاز آبی مقامات پر تیراکی سے گریز کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp