شمالی کوریا کا مشرقی ساحل سے متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا نے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق میزائل تقریباً 250 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی علاقے وونسان سے ہفتے کی صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر متعدد میزائل داغے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، علاقائی ممالک کا اظہارِ تشویش

یہ میزائل تقریباً 250 کلومیٹر یعنی 155 میل کا فاصلہ طے کر کے سمندر کی جانب گئے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق جنوبی کوریا میزائل تجربات سے متعلق معلومات کا امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی تبادلہ کر رہا ہے۔

میزائل تجربات کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی نیشنل سیکیورٹی آفس نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں وزارت دفاع، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

امریکی پیسیفک کمانڈ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سرزمین کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ کمانڈ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ واشنگٹن جنوبی کوریا اور خطے میں اپنے دیگر اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

یہ میزائل تجربات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی کوریا نے امریکا اور جاپان کے ساتھ شمالی کوریا کے حوالے سے 5 روزہ مشترکہ بحری مشقیں مکمل کی ہیں۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا نے 10 بیلسٹک میزائل فائر کردیے، ایک میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون کے باہر جا گرا

پیر کے روز مشقوں کے آغاز کے چند گھنٹے بعد شمالی کوریا کے وزیر دفاع کم سونگ گی نے ان مشقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا اپنی طاقت کی بنیاد پر ’مضبوط اور فوری جوابی اقدامات‘ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں بھی شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں ہونے والی ’فریڈم ایج‘ مشقوں کے منصوبے کو پیانگ یانگ اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

شمالی کوریا نے 20 اگست کو بھی سمندر کی جانب متعدد میزائل داغے تھے، یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے رواں سال ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا نے جوہری صلاحیت رکھنے والا دوسرا جنگی جہاز بحری بیڑے میں شامل کرلیا

امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں طویل عرصے سے پیانگ یانگ کی تنقید کا مرکز رہی ہیں، شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری قرار دیتا ہے

اور ماضی میں بھی ایسی مشقوں کے دوران یا ان کے آس پاس میزائل تجربات کرتا رہا ہے۔

رواں سال امریکا اور جنوبی کوریا نے سالانہ ’اولچی فریڈم شیلڈ‘ فوجی مشقوں کو محدود پیمانے پر منعقد کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مشقوں کو شمالی کوریا کے خلاف ’نامناسب اور مخاصمانہ‘ قرار دیتے ہوئے انہیں کم کرنے کی ہدایت کی تھی، جس پر خطے میں امریکا کے اتحادیوں میں تشویش بھی سامنے آئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp